
کابل : طالبان کی اعلیٰ تعلیم کے وزیر ندا محمد ندیم نے یونیورسٹیوں میں خواتین کے داخلہ پر پابندی کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پابندی یونیورسٹیوں میں صنفی اختلاط کو روکنے کے لیے ضروری تھی۔ جبکہ یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والے بعض مضامین سے اسلام کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر وہ ہم پر ایٹم بم گراتے ہیں تو بھی ہم خواتین کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم کو روکنے کے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ادھر افغانستان میں خواتین کے این جی اوز میں کام کرنے پر پابندی کے بعد چار بین الاقوامی این جی اوز نے اپنا کام بند کردیا ہے۔


































