
اسلام آباد: رہنما تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عدلیہ میں مداخلت کی مذمت کرتے ہیں، ججز کا خط پاکستان کے انتظامی امور پر چارج شیٹ ہے۔
رہنما تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتکو کرتے ہوئے کہا کہ ہم 2 سال سے عدلیہ میں مداخلت کا کہتے چلے آرہے تھے، جج صاحبان کو بھی اللہ نے ہمت دی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور جوڈیشری میں مداخلت ہوئی ہے، ہم مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہیں، ہر ایک جج کو پریشر میں لایا گیا ہے، جج صاحبان نے اپنے خط میں مداخلت کا لکھا ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ٹیریان کا کیس بھی ہم میڈیا کے سامنے لاچکے تھے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 جج صاحبان پریشر سے متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک جج صاحبان نے کہا نہیں پتہ میرے بچے کہاں ہیں، ایک جج صاحب نے کہا میرے بیٹے کا ولیمہ مؤخر کرایا گیا، مطالبہ کرتے ہیں ججز کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
رہنما تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ جن ججز نے خط لکھا ان کے خاندان والوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، ہم مطالبہ کرتے ہیں اس عمل کی جوڈیشل کمیشن کے ذریعے انکوائری ہو، سپریم کورٹ اس کی انکوائری فل اوپن کورٹ میں کرے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جو منصف بیٹھے ہیں وہ اپنی داستان خود بتارہے ہیں، منصف خود انصاف کے طلبگار ہیں، خط کے پیرا 5 میں لکھا ہے مداخلت ہوئی اور ہورہی ہے، یہ پی ڈی ایم حکومت کا کارنامہ تھا، پی ڈی ایم حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 200 کیسز بنوائے، بانی پی ٹی آئی کی فوری رہائی ہونی چاہیے، بانی پی ٹی آئی کے خلاف تمام فیصلے دباؤ میں دیئے گئے ہیں۔
وکلا، تمام بار کونسل اور ایسوسی ایشن سے درخواست کرتے ہیں، اپنے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر عدلیہ کی آزادی کیلئے اکٹھے ہوں، ہم سپریم کورٹ سے درخواست کرتے ہیں اس پر لارجر بنچ بنایا جائے، کل سے سپریم کورٹ کا لارجر بنچ اس کی سماعت شروع کرے۔
رہنما تحریک انصاف عمرایوب کا کہنا ہے کہ ججز کا خط پاکستان کے انتظامی امور پر چارج شیٹ ہے، جو نشانہ تھا وہ ایک شخص ہے جس کا نام قیدی نمبر 804 بانی پی ٹی آئی ہے۔ عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ہم اس پوائنٹ کو تمام اسمبلیوں میں بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے، ٹارگٹ صرف بانی پی ٹی آئی تھی،پورا سسٹم بے نقاب ہوچکا ہے۔
عمر ایوب کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی پارٹی نے 3 کروڑ ووٹ لیے تھے، بشریٰ بی بی، شاہ محمود قریشی، پرویزالہٰی اورخواتین پابند سلاسل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں ریڑھی والا جاسکتا ہے لیکن پی ٹی آئی کے کسی ممبر کی گاڑی سامنے نہیں جاسکتی۔ عمر ایوب کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس وقت ملک کے مستقبل کیلئے دوراہے پر کھڑے ہیں، تعین کرنا پڑے گا، یہ صرف بانی پی ٹی آئی یا پارٹی کے حقوق کا نہیں ہر پاکستانی شہری کا مسئلہ ہے۔


































