
واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن اپنے آخری اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں غزہ کی صورتحال پر مگرمچھ کے آنسو بہاتے رہے۔ جوبائیڈن نے غزہ میں تیس ہزار اموات کو ذکر تو کیا لیکن اسرائیل کو یہ قتل عام روکنے کا کوئی پیغام دیا نہ اسے اسلحہ نہ دینے کی بات کی۔ دنیا کو بے وقوف بنانے کیلئے جوبائیڈن نے کہا کہ غزہ کے ساحل پر عارضی بندرگاہ قائم کی جائے گی تاکہ امداد کی فراہمی میں تیزی لائی جائے۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ جنگ میں اب تک تیس ہزار سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔ مرنے والوں میں اکثریت ایسے ہیں جن کا تعلق حماس سے نہیں۔ انہوں نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ امداد کو سودے بازی کے طور پر استعمال نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا چھ ہفتوں کی جنگ بندی کیلئے کام کررہا ہے۔
یاد رہے کہ امریکا غزہ ہر اسرائیلی جارحیت اور قتل و غارتگری میں برابر کا شریک ہے۔ امریکا اسرائیل کو بھرپور اسلحہ اور گولا بارود فراہم کررہا ہے۔


































