
اسلام آباد: بلوچ طلبا عدم بازیابی کیس میں وزیراعظم اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوگئے۔ نگراں وزیر اعظم نے عدالت کو بتایا کہ ہم آئین کے اندر رہ کر کام کررہے ہیں۔ ہم بلوچستان میں مسلح شورش کا سامنا کررہے ہیں۔ وہ نئی ریاست تشکیل دینے کیلئے مسلح جدوجہد کررہے ہیں۔ ان کی وجہ سے پوری ریاست کو مجرم تصور کرنا درست نہیں۔ ریاست کو ہتھیار اٹھانے والے شہریوں سے الگ طریقے سے ڈیل کرنا چاہیے۔ ریاست اخلاقی طور پر خود کو بالادست سمجھتی ہے تو ان کی جوابدہی زیادہ ہوتی ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ بھی قانون کو جوابدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کو کام بھی کرنا ہے اور جوابدہ بھی ہونا ہے، یہ کیس چلا ہے تو اداروں کی کوششوں سے ہی لوگ گھروں کو پہنچے ہیں، ادارے قانون سے بالاتر یا مستثنیٰ نہیں ہیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اگر کسی کو گرفتار کریں تو اس سے متعلق پتہ ہونا چاہیے، لوگ لاپتہ ہوں تو پاکستان کی ریاست پر الزامات لگتے ہیں۔ انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ہم سب آئین اور قانون کے تحت کام کررہے ہیں، میں عدالت کے بلانے پر حاضر ہوا ہوں، میرا بلوچستان سے تعلق ہے، ہم مسلح جدوجہد کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ خودکش حملہ آور نیک نامی کا باعث بنتے ہیں، پیرا ملٹری فورسز اور کاؤنٹر ٹیرر ازم کے اداروں پر الزامات لگائے جاتے ہیں، میں صرف لاپتہ افراد سے متعلق وضاحت کر رہا ہوں، یہ لاپتہ افراد کا پوچھیں تو 5 ہزار نام دے دیتے ہیں۔ کوسٹل ہائی وے پر بس میں افراد کو زندہ جلا دیا گیا، کسی کو اُس وقت انسانی حقوق کی خلاف ورزی یاد نہیں آئی۔ نگراں وزیراعظم نے کہا کہ یہ بسوں سے اتار کر نام پوچھتے اور چوہدری یا گجر کو قتل کردیتے ہیں، یہ کہتے ہیں اسٹوڈنٹس کی لسانی بنیادوں پر پروفائلنگ نہ کریں، سسٹم میں کمی اور خامیاں ہیں، ثبوت نہیں آتا تو کس کو کیسے سزا دیں۔


































