
نیویارک: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ افغان خواتین پر پابندی کے سبب طالبان کو تسلیم کرنا ممکن نہیں ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کی سربراہ روزا اوتن بائیفا نے سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ افغان خواتین کو حقوق سے محروم رکھنا طالبان حکومت کو تسلیم کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان اقوام متحدہ
اور اس کے رکن ممالک کی طرف سے خود کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج کلیدی اقدار کے خلاف کام کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جب تک خواتین کے حقوق پر پابندیاں رہیں گی اس وقت تک طالبان حکومت کو بین الاقوامی برادری کی جانب سے تسلیم کرنا تقریباً ناممکن ہو گا۔ اوتن بائیفا کا کہنا تھا کہ ہم نے طالبان سے ان پابندیوں کو ختم کرنے کی بارہا اپیلیں کیں۔ لیکن انہوں نے نہ تو ان پابندیوں کی کوئی وضاحت کی اور نہ ہی یہ یقین دہانی کرائی کہ انہیں کب تک اٹھایا جائے گا۔ انہوں نےمزید کہا کہ طالبان کےیہ فرمان افغان عوام میں بھی انتہائی غیر مقبول ہیں۔ ان کی وجہ سے انہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔


































