
اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ اپنے زمانے کے دشمن اور دوست کو پہچاننا اشد ضروری ہے، اگر کوئی اپنے زمانے کے دوست اور دشمن کو نہیں پہچانتا وہ زمانہ شناس نہیں ہے، وہ اپنے وقت کے رہبر سے شناسائی نہیں رکھتا اور اس صورتحال میں وقت کا حسین شہید ہو جاتا ہے اور یہ بے بصیرت شخص گھر میں بیٹھا رہے گا۔
ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام اسلام آباد میں صدر اسلامی جمہوری ایران شہید سید ابراہیم رئیسی و رفقاء کی یاد میں مجلس ترحیم کا انعقاد کیا گیا، جس سے اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم، سفیر جمہوریہ عراق حامد عباس لفتہ، قونصل جنرل آقائے مجید مشکی، و دیگر نے خطاب کیا اور شہداء کی شان میں گلہائے عقیدت نچھاور کئے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہاکہ امریکہ کو انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار کہا گیا، لیکن اس کا اصل مکروہ چہرہ امام خمینی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے دنیا کو دکھایا کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا شیطان ہے اور اس فکر ونظر کو رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے آگے بڑھایا ہے۔ سید ابراہیم رئیسی کا دور ایران کا سنہری دور تھا وہ ایک دن بھی آرام نہیں کرتے تھے اور اپنی عوام کی خدمت کے لیے شب و روز مصروف عمل رہنے والی متحرک ترین شخصیت اس مقاومت اور مزاحمت کے عاشورائی مکتب نے کئی عظیم ہستیوں کی تربیت و پرورش کی، یہ حق وباطل کا ٹکراؤ جاری ہے، آج اس حق کے پرچم کو سید علی خامنہ ای نے اٹھایا ہے اور یہ تاقیامت سر بلند رہے گا، سویت یونین اور امریکہ کے عروج میں ہمارے رہبرِ کبیر اور رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای نے اسلام کی پہچان اور شناخت کروائی،وزیر خارجہ امیر عبد اللہیان لائق ترین انسان تھے، تمام تر عالمی دباؤ کے باوجود اور شیطانی چالوں کے باوجود رہبر کی منشاء کے مطابق خارجہ پالیسی کو لے کر چلنے والا انقلابی وزیر خارجہ تھے۔ ان تمام عظیم الشان ہستیوں نے مظلومین جہاں کی حمایت میں توانا آواز بلند کی اور مظلومین کی ڈھارس بندھی، امریکہ کی مڈل ایسٹ میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری ڈوب گئی یہ سب بابصیرت رہبر معظم اور ان شخصیات کی بدولت ہوا ہے۔


































