
دی ہیگ : ملائشیا اور مصر نے عالمی عدالت انصاف کو آگاہ کیا ہے کہ صیہونی حکومت کے اقدامات کا مقصد غزہ سے فلسطینیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ ملائشین ایلچی ازالینا عثمان سعید نے اسرائیل کیخلاف مقدمے کی سماعت کے دوران دلائل دئے کہ اسرائیلی حکام کے بیانات سے واضح ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو نہ ہٹانے اور یرغمالیوں کو واپس نہ کرنے پر اہل غزہ کو تباہی کی دھمکی دی جارہی ہے جبکہ اسرائیل پوری فوجی طاقت اور بے رحمانہ قتل وغارت کے باوجود ڈیڑھ سال میں بھی ان اہداف کے قریب بھی نہیں پہنچ سکا۔
ادھر مصر کے نمائندے حاتم کمال دین عبدالقادر نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسرائیل جان بوجھ کر غزہ کو ناقابل رہائش بنا رہا ہے۔ جب تک فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضہ برقرار ہے وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند رہے گا۔


































