
لندن : انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے غرب اردن میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے 2025 کے آغاز میں مغربی کنارے کے تین فلسطینی کیمپوں سے لاکھوں افراد کو بے دخل کرنا جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
تنظیم کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق جنین، طولکرم اور نور شمش کے تقریباً بتیس ہزار رہائشیوں کو آپریشن آئرن وال کے دوران غاصب فورسز نے زبردستی نکالا۔ بے دخل افراد کو واپس جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور سینکڑوں گھروں کو مسمار کیا گیا۔
ہیومن رائٹس واچ کی محقق میلینا انصاری نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ دس ماہ گزرنے کے باوجود کسی بھی خاندان کے رہائشی اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکے۔
ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ اس کارروائی کے ذمہ دار اعلی اہلکاروں کے خلاف جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بنیاد پر مقدمات چلانے چاہئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صیہونی فوجیوں نے گھروں پر دھاوا بولا، املاک کو توڑا اور ڈرونز پر نصب لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے خاندانوں کو گھر خالی کرنے کے اعلانات کئےگئے۔ متاثرین کے مطابق جب وہ بھاگ رہے تھے تو بلڈوزرز نے عمارتیں مسمار کیں اور اسرائیلی فورسز نے کوئی پناہ یا امداد فراہم نہیں کی، جس کے باعث خاندان رشتہ داروں کے گھروں، مساجد، اسکولوں اور خیراتی اداروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔


































