
تہران : ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی نے جنگ غزہ میں غاصب صیہونی حکومت کی شکست پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج شر پسندی اور برائی پر اچھائی اور شرافت کی فتح کا دن ہے۔ مجلس خبرگان کے اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے کہا کہ صیہونی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کو اپنے قبضے میں لینا اور حماس کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ لیکن وہ ان میں سے کوئی بھی ہدف حاصل نہ کرسکی ۔ بچوں اور خواتین کے قتل عام اور لوگوں کے گھروں کو تباہ کرنے کے نتیجے میں عالمی سطح پر اس حکومت کے خلاف نفرت پیدا ہوئی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ فلسطینی عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کے اندر خود اعتمادی ہے اور انہوں نے انسانیت کے خلاف مظالم کا مقابلہ کر کے دنیا والوں کی آنکھوں کے سامنے استقامت کا ایک سنہری باب رقم کر دیا ہے۔ صدر ایران نے مزید کہا کہ چالیس دن کے بعد ہم جائزہ لیتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ دشمن نے شکست کھائی ہے اور آج دشمن کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور فلسطینی عوام اور تحریک استقامت کو عظیم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ سید ابراہیم رئیسی نے مزید کہا کہ بچوں اور خواتین کے قتل عام اور لوگوں کے گھروں کو تباہ کرنے کے نتیجے میں عالمی سطح پر صیہونی حکومت کے خلاف نفرت بڑھی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ مغرب والوں کی جانب سے خواتین ، بچوں اور انسانی حقوق کی حمایت ایک تاریخی مذاق میں تبدیل ہوچکی ہے اور اس حوالے سے ان کے بارے میں اسلامی جمہوریہ کی بات ثابت ہوگئی ہے۔ سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ایرانی قوم ہمیشہ سے کہتی آ رہی ہے کہ فلسطین حق بجانب ہے اور اب سب کی سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ صیہونی حکومت نے نسل پرستی سے کام لیتے ہوئے فلسطین اور غزہ کے لوگوں کا قتل عام کیا ہے اور امریکہ اور یورپ پوری قوت کے ساتھ ان کی حمایت کر رہا ہے۔صدر ایران نے عالمی نظام کو ناکارہ، غیر منصفانہ اور ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے لوگ آج ایسے منصفانہ نظام کے خواہاں ہیں جو مظلوم کا دفاع کر سکتا ہو۔ایران کے صدر نے صراحت کے ساتھ کہا کہ حماس کے پاس نہ تو بحریہ ہے، نہ ایئرفورس ہے اور نہ ہی برّی فوج لیکن خدا پر ایمان ہے اور اپنی اسی قوت سے اس نے ناجائز صیہونی حکومت کو شکست سے دوچار کر دیا۔انھوں نے کہا کہ فلسطین کی استقامتی تحریک نے ثابت کردیا کہ ایمان کی طاقت برائی پر فتح حاصل کر سکتی ہے۔ آج برائی پر شرافت کی فتح کا دن ہے ۔


































