
غزہ : اسرائیلی فوج کی بمباری اور ایندھن کی کمی کےباعث الشفا اور القدس اسپتال غیر فعال ہوگئے۔ الشفا اسپتال میں بجلی اور آکسیجن کی بندش سے آئی سی یو کے تمام مریض چل بسے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق غزہ کے دو بڑے اسپتالوں الشفا اور القدس میں دواؤں اور ایندھن کی قلت کے باعث نئے مریضوں کا داخلہ اور کام بند ہوگیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائرکٹر نے مزید انسانی جانی نقصان کو روکنے کے لیے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ کی وزارت صحت اسپتالوں میں مواصلات اور خدمات کے خاتمے کے بعد مسلسل دوسرے دن بھی غزہ میں اموات اور زخمیوں کے اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ نہیں کرسکی۔ جمعہ تک گیارہ ہزار 78 افراد شہید ہوئے تھے۔ ادھر الشفا اسپتال میں رکھی شہدا کی لاشوں کو انتظامیہ نے تدفین کا انتظام نہ ہونے پر اسپتال کے احاطے میں ہی ناقابل شناخت لاشوں کو اجتماعی قبر میں سپردخاک کرنا شروع کردیا۔ گذشتہ روز صیہونی فوج نے خان یونس اور اقوام متحدہ کے دفتر پر بم برسائے۔ حملوں میں مزید 40 افراد شہید اور کئی زخمی ہوگئے۔


































