
تل ابیب : اسرائیل کے سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے اعتراف جرم کیا ہےکہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملوں کے دوران ہنی بال ہدایت جاری کی گئی تھی۔ متنازعہ ہنی بال نظریہ اسرائیلی فوج کو تمام ضروری طاقت استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ پالیسی کے تحت فوجیوں کو پکڑے جانے اور دشمن کے علاقے میں لے جانے سے روکنے کیلئے کسی کی بھی جان لینے کی آزادی ہوگی۔ اسرائیل کی یہ پالیسی کئی اسرائیلی اسیروں کی موت کا بھی باعث بنی۔ جنہیں اسرائیلی فوجیوں نے ہلاک کیا اور اس کا الزام حماس کے مزاحمت کاروں پر لگادیا۔ یوو گیلنٹ نے کہا کہ ان کے خیال میں کچھ جگہوں پر ہنی بال حکمت عملی کو اختیار کیا گیا تھا، دوسری جگہوں پر ایسا نہیں تھا۔
اسرائیلی اخبار ہاریٹز کی تحقیقات میں الزام لگایا گیا تھا کہ ہنی بال ہدایت تین فوجی تنصیبات پر تعینات فوجیوں کو دی گئی تھی۔


































