
غزہ : اسرائیلی فوجیوں نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں امداد کے خواہاں نہتے فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے فوجیوں کے ساتھ بات چیت کے بعد فلسطینیوں کی نسل کشی کے ایک اور منظم اقدام سے پردہ اٹھادیا۔
فوجیوں نے بتایا کہ انہیں کمانڈروں نے حکم دیا تھا کہ کوئی واضح خطرہ نہ ہونے کے باوجود ہجوم پر گولی چلائیں تاکہ انہیں بھگادیا جائے یا منتشر کیا جا سکے۔
ایک فوجی نے غزہ کو مقتل سے تعبیر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ہاتھوں روزانہ ایک سے پانچ فلسطینی شہید ہوتے ہیں حالانکہ ہجوم پر قابو پانے کے لیے غیر مہلک اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ ایک اسرائیلی ریزروسٹ نے ہاریٹز کو بتایا کہ غزہ میں اب کسی کو دلچسپی نہیں ہے۔ اس نے علاقے کو لا قانونیت کا گڑھ قرار دیتےہوئے کہا کہ وہاں انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہیں ہے۔
فوجیوں کے اعترافات کے بعد ملٹری پراسیکیوٹر نے مشتبہ جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔


































