
نیویارک: اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جارحیت نے غزہ کی ترقی کو ساٹھ سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ایڈمنسٹریٹر اچم اسٹینر نے ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر انٹرویو میں کہاکہ جنگ سے غزہ کی پینسٹھ سے ستر فیصد عمارتیں یا تو مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں یا انہیں نقصان پہنچا ہے۔ پندرہ ماہ میں تقریباً 60 سال کی ترقی ضائع ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیس لاکھ افراد اپنی پناہ گاہ سے محروم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے عوامی انفراسٹرکچر، سیوریج ٹریٹمنٹ سسٹم، پانی کی فراہمی کے نظام کو کھو دیا ہے۔ بنیادی ڈھانچہ اور خدمات کے عناصر کا محض کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیالیس ملین ٹن ملبے کو ہٹانا خطرناک اور پیچیدہ ہوگا۔ تعمیر نو کے لیے درکار دسیوں ارب ڈالرز کو جمع کرنا بھی ایک مشکل جنگ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اعدادوشمار سے کوئی بھی شخص یا ادارہ تباہی کی نوعت کا اندازہ نہیں لگاسکتا۔


































