
بیروت: حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے کہاہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت ایک خطرناک اور غیر معمولی پیشرفت ہے۔ یہ جرائم غاصب اسرائیل کی بربریت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یوم شہدا کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ اسرائیل بلآخر مزاحمتی محاذ کے سامنے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگا۔وقت [اسرائیلی] دشمن کے حق میں نہیں ہے اور تمام عوامل بشمول یرغمال قیدی اس پر دباؤ بڑھائیں گے۔ ہمیں دباؤ جاری رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ "دشمن الجھن میں ہے اور یہ اسرائیلی وزیر نیتن یاہو کے متضاد بیانات سے ظاہر ہوتا ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 3 نومبر کو ان کی آخری تقریر کے بعد سے حزب اللہ کی کارروائیاں روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں، اور یہ کہ مزاحمتی جنگجوؤں کی سرگرمیاں تعداد اور قسم دونوں کے لحاظ سے گزشتہ ہفتے کے دوران تیز ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غاصب اسرائیلی جرائم کا مقصد خطے کے لوگوں کو محکوم بنانا اور ان کے حقوق مانگنے کی خواہش کو توڑنا ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیلی غاصب کے جرائم کا مقصد لوگوں کو اپنی سرزمین، قیدیوں، مقدسات اور پورے فلسطین کو چھوڑنے اور بھول جانے پر مجبور کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسرائیل غزہ میں اپنی جارحیت اور شہریوں کو جان بوجھ کر قتل کرکے لبنان کو پیغام دے رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسرائیل ایک اور غلطی کر رہا ہے اور اس نے ابھی تک اپنے ماضی سے سبق نہیں سیکھا ہے۔ یہ اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکے گا اس نے ماضی میں دیر یاسین سمیت جو قتل عام کیے ہیں وہ اس کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلیوں کو اپنے اہداف کے حصول کے لیے مایوس ہونا چاہیے نہ کہ ہمارے لوگوں کو کہ جن کا انتخاب فتح، آزادی اور وقار ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کے اپنے اقدامات نے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی اس کی کوششوں کو برباد کر دیا۔


































