
انسانی حقوق کی تنظیم یورو میڈیٹرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر انڈیپنڈنٹ انٹرنیشنل کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ قابض اسرائیل نے منظم اور وسیع پیمانے پر فلسطینی مردوں اور عورتوں دونوں کے خلاف جنسی اور صنفی بنیادوں پر جرائم کا ارتکاب کیا ہے، 7 اکتوبر 2023 سے جاری نسل کشی کے دوران فلسطینیوں پر جنسی تشدد اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی جنگ میں جنگی جرائم کا حصہ ہے۔ ایک بیان میں یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے اس بات پر زور دیا کہ رپورٹ کے مندرجات کی سنجیدگی کے لیے اسرائیل کی استثنیٰ کی دیرینہ پالیسی کو ختم کرنے کی فوری بین الاقوامی اقدام کی ضرورت ہے، یہ استثنیٰ ہی ہے جس نے اسے فلسطینیوں کے خلاف اپنے بے مثال جرائم کو جاری رکھنے کے لیے جری بنا رکھا ہے، بین الاقوامی انکوائری کمیشن کی 13 مارچ 2025ء کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل فلسطینیوں کے سماجی ڈھانچے کو غیر مستحکم کرنے اور تباہ کرنے کے لیے ایسا کر رہا ہے۔
یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے کہا کہ کمیشن نے اس بات کی تصدیق کی کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا عام شہریوں پر غیر متناسب اثر پڑا ہے، خاص طور پر فلسطینی خواتین اور لڑکیاں شہید ہوئی ہیں جن میں سے اکثر کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، 7 اکتوبر 2023ء سے غزہ میں متاثرین کی کل تعداد میں ہزاروں خواتین کی موت واقع ہوئی، اسرائیل کی منظم خلاف ورزیوں کے نتیجے میں شدید جسمانی اور نفسیاتی نقصان پہنچا ہے، جن میں حمل اور ولادت کی پیچیدگیوں سے موت بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگ کے ایک آلے کے طور پر فاقہ کشی کا استعمال، انسانی امداد سے انکار اور جبری نقل مکانی نے خواتین اور لڑکیوں کے لیے تولیدی نقصان کو بڑھا دیا ہے، جس سے بچے کی پیدائش کے تمام مراحل، حمل اور بچے کی پیدائش سے لے کر بعد از پیدائش کی بحالی اور دودھ پلانے تک تمام مراحل متاثر ہوئے ہیں، کمیٹی نے فلسطینیوں کے خلاف جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے منظم نمونوں کو بھی دستاویزی شکل دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عصمت دری، جبری عریانیت، جنسی تذلیل، جنسی تشدد، جنسی ہراسانی اور توہین آمیز سلوک بھی شامل ہے، ان خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی گئی، تصویر کشی کی گئی اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی توہین کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے فلسطینی مردوں، عورتوں اور بچوں کو مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ گرفتاری کے دوران، تفتیشی مراکز اور جیلوں میں، یا غزہ میں جبری نقل مکانی کے دوران مکروہ حربوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
انکوائری کمیٹی کی سربراہ نوی پلے نے ایک بیان میں کہا کہ یہ خلاف ورزیاں نہ صرف خواتین اور لڑکیوں کو شدید جسمانی اور نفسیاتی نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ ایک گروپ کے طور پر فلسطینیوں کی نفسیاتی اور تولیدی صحت اور زرخیزی کے امکانات کے لیے طویل مدتی، ناقابل تلافی نتائج کا باعث بھی ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے مئی 2021 ءمیں قابض اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے تین رکنی آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا۔
کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس قسم کی کارروائی انسانیت کے خلاف جرائم اور فلسطینیوں کو ایک گروہ کے طور پر تباہ کرنے کی دانستہ کوششوں کے مترادف ہے۔ یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی جب کمیٹی نے جنیوا میں منگل اور بدھ کو جنسی تشدد کے متاثرین اور گواہوں کی گواہی سننے کے لیے عوامی اجلاس منعقد کیے تھے۔ انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل نے براہ راست سویلین خواتین اور لڑکیوں کو نشانہ بنایا، ان کارروائیوں میں جو انسانیت کے خلاف قتل اور جان بوجھ کر قتل کرنے کے جنگی جرم کو تشکیل دیتے ہیں۔


































