
ریاض : ریاض میں تعیینات ایرانی سفیر علی رضا عنایتی نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی سے پریشان ہے اسی لئے دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں ایجاد کرنے کی سازش کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے مشترکہ دوستوں نے تعلقات کی بحالی پر خوشی کا اظہار کیا ہے لیکن صیہونی حکومت سمیت کچھ ممالک اس حوالے سے پریشان ہیں اسی لئے اسرائیل تہران اور ریاض کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں امید ظاہر کی کہ خطے کی سیکورٹی کو یقینی بنانے اور اقتصادی و معاشی استحکام کے لئے باہمی مفادات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ خطے کے ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور تعلقات بہتر ہونے سے خطے میں تعیینات غیر ملکی افواج کا جلد انخلاء ممکن ہوجائے گا۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک کے درمیان تعلقات بڑھنے سے کوئی بھی بیرونی طاقت اپنی مرضی ہم پر مسلط نہیں کرسکے گی۔ایرانی سفیر نے کہا کہ اسلامی جمہوری ایران تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات مستحکم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ایران اور سعودی عرب دونوں خطے کے اہم اور طاقتور ممالک ہیں لہذا ان کے درمیان تعلقات بہتر ہونے سے پورے خطے کے ممالک کا فائدہ ہوگا۔ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کرکے اپنے اقتصادی اور دیگر مسائل کو حل کرسکتے ہیں اس سے دوسرے ممالک بھی مستفید ہوسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور بعض ممالک کے تعلقات بہت مضبوط ہیں جو اقتصادی لحاظ سے بہت اچھی پوزیشن رکھتے ہیں۔ انہوں نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات بحال کرنے میں چین کے کردار کو بھی سراہا۔


































