
تل ابیب: اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے نیتن یاہو حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک داخلی انہدام کی جانب بڑھ رہا ہے اور وزیراعظم نئی جنگ چھیڑ کر اپنے احتساب سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیلی اخبار کے مطابق اسرائیل غزہ اور لبنان میں جنگ کو وسعت دینے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، جبکہ ریاستی ادارے اور حکمرانی کا نظام بکھرتا جا رہا ہے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی و سیکیورٹی انتشار نیتن یاہو کے لیے ڈھال بن رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل بظاہر غزہ اور لبنان میں بڑی جنگ کی تیاری کر رہا ہے تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ بیس نکاتی منصوبے کو روک سکے اگر امریکہ نے سخت دباؤ نہ ڈالا تو تل ابیب نئی زمینی حقیقتیں قائم کر دے گا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں غزہ میں حملے تیز کر کے درجنوں فلسطینیوں کو شہید کیا ہے، جبکہ لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اخبار نے ان کارروائیوں کو سوچا سمجھا تجربہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد موجودہ معاہدوں کی حدود اور عالمی ثالثوں کی برداشت کو پرکھنا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ سات اکتوبر کا دھچکا، جو اب تک اسرائیلی معاشرے پر اثرانداز ہے, نیتن یاہو کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جس کے ذریعے وہ حالات کو اپنی مرضی سے بھڑکا یا ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔


































