
بیروت : لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بیری نے کہا کہ جب تک دشمن اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتا ہم اس وقت تک ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہتھیار وہ گیم چینجر ہیں جن کی تقدیر کا فیصلہ بات چیت اور جنگ بندی کے مکمل نفاذ کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے لبنانی صدر جوزف عون اور مقاومتی تحریک حزب الله کے درمیان بات چیت کا خیر مقدم کیا۔ نبیہ بیری نے کہا کہ دشمن پر بھی جنگ بندی کے ضمن میں طے کی گئی شرائط کو پورا کرنے کے لئے دباؤ ڈالنا چاہئے۔ ہم نے اپنے تمام وعدوں پر عمل کیا لیکن بلاشبہ صیہونی دشمن نے اپنی ایک بھی بات کو پورا نہیں کیا۔ جس کی مکمل ذمے داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ ان وعدہ خلافیوں ہی کی وجہ سے ہم اپنے سارے وکٹری کارڈز ظاہر نہیں کر رہے۔لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ بیروت نے جنگ بندی کے معاہدے میں دو وعدے کئے تھے جس میں جنوبی علاقوں میں فوج کی تعیناتی اور دریائے لیطانیہ سے حزب الله کا انخلاء شامل تھا۔ ہم نے ان دونوں وعدوں کو پورا کیا یہاں تک کہ اس سارے عمل میں ایک گولی بھی نہیں چلی۔ دوسری جانب دشمن نے اپنی ایک بھی بات کو پورا نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس اپنی جارحیت اور حملوں میں اضافہ کر دیا۔
یاد رہے کہ صیہونی رژیم نے یکم اکتبر 2024ء کو لبنان کے خلاف اپنی جارحیت کا آغاز کیا۔ جس کے 2 ماہ بعد، امریکہ کی ثالثی سے 27 نومبر 2024ء کو دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ عمل میں آیا۔ اس معاہدے کی رو سے اسرائیل کو دو ماہ کے اندر لبنان سے اپنی فوجیں باہر نکالنا تھیں لیکن بین الاقوامی قوانین کے برخلاف صیہونی فوجیں اب بھی جنوبی لبنان کے 5 اہم مقامات پر قابض ہیں۔


































