
تل ابیب : صیہونی حکومت نے مقررہ مدت پوری ہوتے ہی فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی انروا سے تمام تعلقات منقطع کرلئے۔ اسرائیلی حکومت نے انروا کو 30 جنوری سے اسرائیل میں تمام سرگرمیاں بند کرنے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اورین مارمورسٹین نے کہا کہ انروا حماس کی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے متأثرہ تنظیم کے برابر ہے۔ انروا میں حماس کے کارکنان سرایت کر گئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے فیصلے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے اسے واپس لینے کی اپیل کی۔
انروا کے سربراہ فلپ لازارینی نے انروا کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں کو فلسطینیوں کی زندگیوں اور مستقبل کو نقصان پہنچانے والا ایک مسلسل حملہ قرار دیا۔ انروا اسرائیلی پابندی کے باوجود تمام فلسطینی علاقوں میں ریلیف کا کام جاری رکھے گی۔ ان علاقوں میں یروشلم بھی شامل رہے گا۔


































