
تل ابیب: اسرائیل کے جنگلات کی آگ پھیلنے پر ہنگامی حالت کا اعلان کردیا گیا۔ آگ نے پانچ ہزار ایکڑ اراضی کو جلادیا جس میں تین ہزار ایکڑ جنگل بھی شامل ہے۔ بیس سے زائد زخمیوں کو اسپتال لایا گیا ہے۔آگ نے کئی کلومیٹر رقبے کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ درجنوں رہائشی علاقوں کو خالی کرا لیا گیا ہے اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ پولیس نے مرکزی یروشلم-تل ابیب ہائی وے کو بند کردیا ہے۔ فائر بریگیڈ، پولیس اور فوج کی مشترکہ ٹیمیں دن رات کوششوں میں مصروف ہیں۔آگ اس قدر شدید ہے کہ اسرائیلی طیارے بھی اس پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔
عالمی مدد کی اپیل کے بعد یونان، قبرص، کروشیا اور اٹلی سے آگ بجھانے والے طیارے اور فائر فائٹرز اسرائیل پہنچ گئے۔ یوکرین، اسپین، فرانس اور دیگر نے بھی امداد بھیجنے کا عہد کیا ہے۔ آگ لگنے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اٹھارہ افراد کو جنگل کی آگ بھڑکانے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔ فائر ڈپارٹمنٹ کے کمانڈر شمولک فریڈمین نے نے خبردار کیا کہ 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں صورتحال کو مشکل بنا رہی ہیں وزیراعظم نیتن یاہو نے خبردار کیا کہ یروشلم کے قریب جنگل کی آگ تیزی سے پھیلتی ہوئی شہر تک پہنچ سکتی ہے۔


































