
اسلام آباد : جامع مسجد و امام بارگاہ الصادق جی نائن ٹو اسلام آباد پر حملے کی دھمکیوں اور مکتب تشیع کی توہین کیخلاف نماز جمعہ کا اجتماع تجدید عہد کے عنوان سے منعقد کیا گیا۔ اجتماع میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور تکفیروں کی بڑھتی سرگرمیوں اور دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا گیا کہ حکومت دہشت گرد تکفیری عناصر کو لگام ڈالے جو ملک میں ایک بار پھر امن وامان کو تباہ کرنے کی سازش کررہے ہیں۔اجتماع میں الصادق ٹرسٹ کی رہبر کمیٹی کی جانب سے پیش کی گئی قراردادوں کی مکمل حمایت کی گئی۔ قرار داد میں تکفیریوں کے بڑھتے ہوئے غیرقانونی اقدامات، شریعت کی پامالی، پیغام پاکستان اور نیشنل ایکشن پلان کےخلاف دہشت گردی پر مبنی سرگرمیوں کی شدید مذمت کی گئی۔ اور مسجد و امام بارگاہ الصادق کی اینٹ سے اینٹ بجانےکی دھمکیوں ، اہل تشیع کے خلاف شرانگیزی پھیلانے اور پرامن ماحول خراب کرنے پر ضلعی انتظامیہ کے مجرمانہ طرزعمل پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ کالعدم تنظیموں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ اجتماع میں عہد کیا گیا کہ مکتب تشیع کے حقوق، مقدسات اور دینی مراکز کے تحفظ کیلئے ہرممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ یہ اجتماع حکومت کو مہلت دیتا ہے کہ وہ جلدازجلد راست اقدامات اٹھائے اگر ضروری اقدامات نہ لئے گئے تو آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔


































