
اسلام آباد: اسلام آباد میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اعجاز خان کے گھر پر چھاپہ مار کر توڑ پھوڑ اور بیٹے پر تشدد کیا گیا۔ چھاپہ مار ٹیم گھر سے کاغذات اور لیپ ٹاپ لے گئی۔ چھاپے کے وقت بیرسٹر گوہر اعجاز سپریم کورٹ میں تھے انہوں نے روسٹرم پر آکر کہا کہ جناب چیف جسٹس صاحب میرے گھر میں حملہ ہوا ہے، فیملی پر تشدد کیا گیا جس کے لیے 4 ڈالے آئے تھے۔ کمپیوٹر اور دستاویزات لے کر چلے گئے۔ اس کے بعد وہ سماعت چھوڑ کر چلے گئے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ جو ہوا ایسا نہیں ہونا چاہیے گھر کا جائزہ لینے کے بعد بیرسٹر گوہر دوبار عدالت پہنچے اور چیف جسٹس کو بتایا کہ اسلام آباد ایف سیون ٹو والے گھر پر ریڈ کی گئی جس میں میرے بیٹے کو مارا گیا میری بیوی کو مارا گیا گھر کے دروازے اور کھڑکیاں توڑ دی گئیں، میرے لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر لے گئے۔ پولیس ترجمان نے چھاپے کی تصدیق کی اور بتایا کہ پولیس ایک اطلاع پر اشتہاریوں کی تلاش میں ایک گھر پہنچی، وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ گھر بیرسٹر گوہر کا ہے اور پولیس واپس آگئی، نہ ہی کسی پر کسی قسم کا تشدد کیا گیا اور نہ ہی کوئی دستاویزات اٹھائی گئیں۔


































