
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
عراق میں صدر دھڑے کے رہنماء مقتدیٰ الصدر کے حکم کے بعد، اس گروہ کے تمام اراکین نے عراقی پارلیمنٹ سے اپنے استعفوں پر دستخط کر دیئے ہیں۔ صدر دھڑے کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی مقتدیٰ الصدر کی طرف سے کی گئی ہے۔ عراقی پارلیمانی انتخابات اکتوبر 2021ء میں ہوئے۔ انتخابات کو آٹھ ماہ گزر چکے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف ملک میں سیاسی تعطل کم نہیں ہوا ہے بلکہ اس میں شدت آئی ہے۔ موجودہ عراقی پارلیمنٹ میں، صدر گروپ 73 نشستوں کے ساتھ، 329 نشستوں والی پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ نشستیں رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے عراق میں صدر دھڑے کے رہنماء مقتدیٰ الصدر اس دھڑے کو عراق کا اہم موجودہ سیاسی دھڑا سمجھتے ہیں اور ساتھ ہی ان کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ کرنا ان پر منحصر ہے کہ وزیراعظم کے عہدے کے لیے کس کو نامزد کرنا ہے۔ گذشتہ جمعرات کو صدر نے پارلیمنٹ کے موجودہ ارکان کو پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کا حکم دیتے ہوئے اعلان کیا کہ "اکثریت ہمارے لیے ہے نہ کہ دوسروں کے لیے۔ میں معاہدے کی حکومت میں حصہ نہیں لوں گا۔”
صدر نے اس سے قبل ملک کے سیاسی تعطل کے جواب میں کئی قدم اٹھائے تھے۔ آخری بار 15 مئی کو صدر بلاک نے اعلان کیا تھا کہ ان کا دھڑہ حکومت بنانے میں ناکام رہا ہے، لہذا وہ پارلیمنٹ میں زیادہ نشستیں رکھنے کے باوجود اپوزیشن کا کردار ادا کرے گا۔ اس سے قبل صدر نے 31 مارچ کو صدر منتخب کرنے اور حکومت بنانے پر مذاکرات سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔ اب بھی سیاسی تعطل جاری رہنے کے بعد صدر نے اس تحریک کے ارکان سے پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ المیادین ٹی وی کے مطابق "یہ اقدام پارلیمنٹ میں حکومت بنانے میں ناکام ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔” بہرحال اگر صدر کے نمائندے مستعفی ہو جاتے ہیں تو عراقی پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا امکان بڑھ جائے گا، کیونکہ مقتدیٰ الصدر کے پاس 73 نشستیں ہیں۔ عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الحلبوسی کی طرف سے صدر کے دھڑے کے نمائندوں کے استعفے پر دستخط کے ساتھ ہی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عراقی سیاسی منظر نامے کیا ہوگا۔؟
عراقی پارلیمنٹ میں صدر کے دھڑے کے 73 ارکان ہیں اور اس میں سب سے زیادہ پارلیمانی نشستیں ہیں۔ صدر کے دھڑے سے وابستہ نمائندوں کے استعفیٰ کے ساتھ کئی سیاسی منظرنامے سامنے آسکتے ہیں۔ پہلا منظر یہ ہے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ صدر دھڑے کے نمائندے عراقی پارلیمنٹ میں واپس آجائیں۔ عراقی الیکٹورل کمیشن کے باخبر ذرائع نے بتایا کہ کمشن کو ابھی تک صدر کے نمائندوں کے استعفے سے متعلق کوئی سرکاری دستاویز موصول نہیں ہوئی ہے۔ دوسری طرف ایک ریکارڈ موجود ہے کہ عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الحلبوسی نے کچھ اراکین کے استعفوں پر رضامندی ظاہر کی، لیکن ان اراکین نے ان کی واپسی کی درخواست کی اور الحلبوسی نے قبول کر لیا۔ مثال کے طور پر خمیس خنجر کے الصیاد اتحاد کے رکن لیث الدولیمی نے ابتدا میں استعفیٰ دیا، تاہم بعد میں اپنے استعفیٰ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں واپس چلے گئے۔ اس وجہ سے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صدر کے نمائندوں کا استعفیٰ سیاسی چال کی طرح ہے، یہ کام مقتدیٰ الصدر پہلے بھی کرچکے ہیں۔ پچھلے اکتوبر میں پارلیمانی انتخابات سے پہلے، صدر نے اعلان کیا کہ وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے، لیکن پھر انتخابی منظر پر واپس آگئے۔
دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ صدر دھڑے کے نمائندے باقاعدہ استعفیٰ دے دیتے ہیں اور وہ قبول بھی ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں عراقی آئین کے مطابق پارلیمنٹ کی 73 نشستیں ان لوگوں کے پاس جائیں گی، جنہوں نے ان 73 حلقوں میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ صدر کے نمائندوں نے عراقی شیعہ حلقوں میں مقابلہ کیا اور پارلیمنٹ میں داخل ہوئے اور ان کے سب سے اہم حریف دوسرے شیعہ گروہ تھے، مستعفی ہونے والی نشستیں شیعہ امیدواروں کو چلی جائیں گی، جو بنیادی طور پر شیعہ کوآرڈینیشن فریم ورک کے امیدوار ہیں۔ اس صورت میں شیعہ کوآرڈینیشن فریم ورک کو دوسرے گروپوں کے ساتھ اتحاد کے ذریعے سیاسی تعطل سے نکلنے کا راستہ مل سکتا ہے۔ اگر شیعہ کوآرڈینیشن فریم ورک اس مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا تو یہ عملی طور پر ایک اور الیکشن کی راہ ہموار کرے گا۔
تیسرا منظرنامہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے استعفوں کی لہر میں دیگر ارکان شامل ہونے کے ساتھ، یہ استعفے پارلیمنٹ کی تحلیل اور انتخابات کے دوبارہ انعقاد کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ اس صورت میں مصطفیٰ الکاظمی کی حکومت نئے انتخابات کے انعقاد تک کام کرتی رہے گی۔ عراقی سنی سیاستدان مشان الجبوری نے کہا کہ ان استعفوں کے ساتھ الکاظمی اور ان کی حکومت باقی رہے گی، پارلیمنٹ تحلیل ہو جائے گی اور نئے پارلیمانی انتخابات اگلے سال منعقد ہوں گے۔ چوتھا منظرنامہ یہ ہے کہ مقتدیٰ الصدر اپنے حریفوں کے خلاف سڑکوں پر مظاہروں کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ درحقیقت استعفے عراق میں عدم استحکام کا پیش خیمہ ہیں۔ ماضی میں صدر کے دھڑے کے لیڈر حکومتوں پر دباؤ ڈالنے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے عوام کو سڑکوں پر لانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اب بھی کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مقتدیٰ الصدر عوام کو سڑکوں پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ حریفوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ مقتدیٰ صدر کی کارروائی عراقی سیاسی منظر کو پیچیدہ اور اختلافات کو مزید گہرا کر دے گی، کیونکہ ایک طرف صدر کے حلیفوں کا دوبارہ انتخاب محمد الحلبوسی کے حق میں نہیں ہے اور ان کی عراقی پارلیمنٹ کی صدارت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ دوسری طرف سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں سے صدر اور اس کے اتحادیوں کے مقاصد حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ اگر استعفے نافذ ہو جاتے ہیں اور متبادل نائبین پارلیمنٹ میں داخل ہو جاتے ہیں اور کوآرڈینیشن فریم ورک کابینہ بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو مقتدیٰ الصدر اور ان کے حامی اپوزیشن کے کردار میں نظر آئیں گے اور مختلف طریقوں سے کابینہ کی نا اہلی کو ثابت کرنے کی کوشش کریں گے، جو عراق میں مسائل کو مزید بڑھا دے گا۔


































