
تہران: ایرانی وزیرِ انٹیلی جنس اسماعیل خطیب کا کہنا ہے کہ حالیہ 12 روزہ جنگ میں ایران کے میزائل حملوں نے اسرائیلی اہم مراکز اور اثاثوں کو شدید نقصان پہنچایا، جسے خود قابض حکام نے تسلیم کیا ہے۔ خطیب نے کہا کہ اسرائیلی ادارہ سنگین سکیورٹی دراڑوں اور ایران کے حق میں جاری جاسوسی سرگرمیوں کا شکار ہے، اور اس کے ایٹمی پروگرام سمیت کئی نہایت حساس دستاویزات مکمل طور پر ایران منتقل ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت ایران کے سکیورٹی، عسکری اور انٹیلی جنس نظام کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ جنگ کے نمایاں نتائج میں اسرائیل کی عالمی ساکھ میں کمی بھی شامل ہے۔ امریکی پالیسی پر بات کرتے ہوئے خطیب نے کہا کہ واشنگٹن کی حکمت عملی اب ایرانی حکومت کو گرانے سے ہٹ کر دباؤ کے ذریعے اسے محدود کرنے پر آ گئی ہے، اور بیرونی حمایت یافتہ نیٹ ورکس کی ناکامی کے بعد اب ایران کے اندرونی حالات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دشمن کے منصوبے میں فوجی دھمکیوں میں اضافہ، محاصرے سخت کرنا، خطے میں امریکی و نیٹو افواج کی موجودگی وسیع کرنا اور اسرائیلی اڈوں کی مضبوطی شامل ہیں، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی انخلا سے متعلق سابقہ بیانات کی نفی کرتے ہیں۔


































