
تہران: ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خط کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی کی طرح اب بھی امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات ہوسکتے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ سید محمد عباس عراقچی کے جواب میں امریکی صدر کے خط سے متعلق ایرانی نقطہ نظر کو واضح کیا گیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے سرکاری خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری جواب میں ایک خط شامل ہے، جس میں موجودہ صورتحال اور امریکی خط سے متعلق ایرانی نقطہ نظر واضح کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اپنا خط عمان کے حوالے کیا ہے، جو اس معاملے میں ثالث کے طور پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی زیادہ سے زیادہ دباؤ اور فوجی دھمکیوں کے حالات میں براہ راست مذاکرات نہ کرنے پر قائم ہے، لیکن بالواسطہ مذاکرات اسی طرح جاری رہ سکتے ہیں جس طرح ماضی میں کیے گئے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 مارچ کو ایران کو خط بھیجا تھا، امریکی صدر کے خط کے مندرجات کو سرکاری طور پر ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اُنہوں نے ایران سے نئے جوہری معاہدے پر مذاکرات کی درخواست کی تھی۔


































