
تہران: ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہےکہ اسرائیل نے امریکی حمایت سے ایران کو جارحیت کا نشانہ بنایا جبکہ ایران نے اپنے بل بوتے پر اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔ اسرائیلی جارحیت کے دوران مایوسی کے عالم میں امریکہ کے سامنے جھکنے اور چمٹے رہنے پر مجبور ہوا، کیونکہ وہ تنہا ایران کا سامنا کرنے کے قابل نہیں تھا۔
عدلیہ کے سربراہ اور عہدیداران سے خطاب میں ولی امر مسلمین نے صیہونی جنگی جرائم پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی عالمی اور ملکی عدالتوں میں صیہونی جرائم کی مکمل اور ہوشیارانہ پیروی کی جائے۔ اگرچہ ماضی میں بعض مواقع پر کوتاہی ہوئی، لیکن اس بار غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ یہ پیروی اگر بیس سال بھی جاری رہے تو قابلِ قبول ہے۔ دشمن کا گریبان کسی بھی صورت میں نہ چھوڑا جائے۔ انہوں نے ایران کے خلاف حالیہ مسلط کردہ جنگ میں ایرانی عوام کے عظیم کردار کی قدردانی کرتے ہوئے کہاکہ ایرانی قوم نے اپنے کردار سے دشمنوں کے سارے اندازوں کو غلط ثابت کیا اور دشمنوں کی تمام گھناؤنی سازشوں پر پانی پھیر دیا۔ بارہ روزہ جنگ میں ایران میں قومی عزم ارادے اور اتحاد نے دشمنوں کے عزائم کو پسپا کیا اور دنیا نے مشاہدہ کیا کہ ایران نے صیہونی حکومت و امریکہ کی طاقت کا بھرم توڑ کر رکھ دیا۔
سید علی خامنہ ای نے کہاکہ ایران نے امریکا و اسرائیل کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر اس حقیقت کو ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ایرانی قوم کسی بھی جارح طاقت سے نہیں ڈرتی اور وہ ہر جارحیت کا دنداں شکن جواب دینے کی توانائی رکھتی ہے۔
ولی امر مسلمین نے اسرائيل کو سرطانی پھوڑا اور امریکہ کی جانب سے اس کی حمایت کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایرانی قوم نے نہ تو ظلم و جارحیت کو برداشت کیا ہے نہ ہی آئندہ کبھی ظلم و جارحیت کو برداشت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ خبریں سنسر نہ ہوں اور حقیقت سامنے آئے تو پتہ چلے گا کہ ایران نے امریکی حملے کا کتنی توانائی سے جواب دیا ہے جبکہ اس سے بھی زیادہ توانائی کے ساتھ ایران جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


































