
ایران اگلے 25 سال تک چین کو درکار تمام خام تیل فراہم کرے گا اسب تیل کی امدنی کو ایران اپنی مرضی سے استعمال کرسکےگا، دستاویز
چین ایران میں تیل کی صنعت میں سرمایہ کرے گا، بندرگاہوں کی تعمیر میں بھی حصہ لے گا، امریکا معاہدہ ناکام بنانےکی پوری کوشش کرے گا،وزارت خارجہ
تہران(نیوز ڈیسک) ایران اور چین کے درمیان اسٹریٹیجک معاہدے سے امریکا اور اسرائیل میں صف ماتم بچھ گئی، اور معاہدے کے خلاف بڑے پیمانےپر زہریلا پروپیگینڈا شروع کردیا، معاہدے کے مطابق
تحت ایران اگلے 25 سال تک چین کو درکار تمام خام تیل فراہم کرے گا اسے تیل کی امدنی کو اپنی مرضی سے استعمال کرسکےگا، چین ایران میں ایسی ریلوے لائن بچھائے گا جو ایران کے راستے پاکستان کو عراق اور شام سے جوڑے گی، معاہدے کی دستاویز کے مطابق چین ایران میں تیل کے شعبے میں اپنی مرضی سے سرمایہ کاری کر سکے گا، چین ساحل کی ترقی کے ساتھ مکران خطے میں بندرگاہوں کی تعمیر میں بھی حصہ لے گا۔ دونوں ملک پیٹروکیمیکل مصنوعات، سویلین جوہری توانائی کی فراہمی، شاہراہوں، ریلوے اور سمندری رابطوں کی تعمیر اور بینکاری میں تعاون کریں گے، معاہدے کے تحت دونوں ممالک منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی اعانت اور منظم جرائم کے خلاف بھی تعاون کریں گے، ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے معاہدے پر امریکی وزیر خارجہ کے معاندانہ رد عمل کے حوالے سے کہا کہ بلاشبہ، وہ ایران اور چین کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کے دشمن ہیں اور وہ ان مذاکرات اور اس دستاویز کی ناکامی کو شکست دینے کی پوری کوشش کریں گے، موسوی نے خلیج فارس میں ایرانی جزیروں کے کرائے پر لینا، کم قیمت پر تیل فروخت کرنے کی اجارہ داری، مسلح افواج کی تعیناتی وغیرہ جیسے الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا جو مسترد کرنے کے قابل بھی نہیں، انہوں نے کہاکہ معاہدے کی منظوری پارلیمنٹ سے لی جائےگی


































