
Relatives of seven-month-old Ali Deif, the son of Hamas’s military commander Mohammed Deif, hold his body as they mourn during the funeral of both the child and his mother in Jabalia, in the northern Gaza Strip, on August 20, 2014. Several thousand mourners joined the funeral procession for the wife and baby son of Hamas’s military commander, angrily demanding revenge against Israel. AFP PHOTO/ ROBERTO SCHMIDT
غزہ: غزہ میں امدادی مراکز پر تعینات امریکی سیکیورٹی کنٹریکٹروں نے امداد کیلئے جمع بھوک سے نڈھال فلسطینیوں پر جان بوجھ کر براہ راست گولیاں چلانے کی تصدیق کردی۔امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہےکہ امریکی سیکیورٹی کنٹریکٹروں نے خوراک کے لیے جمع بھوک سے نڈھال فلسطینیوں پر فائرنگ کی اور اسٹن گرینیڈوں اور مرچ اسپرے کا بھی استعمال کیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات بغیر کسی واضح خطرے کے کیے گئے۔ اے پی نے دو امریکی کنٹریکٹروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ سیکیورٹی عملہ غیر تربیت یافتہ اور بھاری اسلحے سے لیس تھا۔ اُن کے بقول ایسا لگتا ہے جیسے ان کے پاس ہر قسم کی کارروائی کرنے کا کھلا لائسنس ہے۔ اور وہ ان واقعات پر پریشان ہوکر حقائق سامنے لارہے ہیں۔
کنٹریکٹروں نے مزید انکشاف کیا کہ امریکی اہلکار کھانے کی تلاش میں آنے والوں کی نگرانی کرتے ہیں ۔ امدادی مرکز میں چہرے کی شناخت کرنے والے کیمرے بھی نصب ہیں جن کی مدد سے مشتبہ افراد کی شناخت کی جاتی ہے اور معلومات اسرائیلی فوج کے ساتھ شیئر کی جاتی ہیں۔ کنٹریکٹرز کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کو مبینہ طور پر کسی بھی مشتبہ شخص کی تصویر لینے کی ہدایت دی گئی تھی جسے بعد میں ڈیٹا بیس میں شامل کیا جاتا ہے۔


































