Thu Oct 15, 2026

ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

غزہ میں بھوک سے نڈھال فلسطینیوں پر جان بوجھ کر براہ راست گولیاں چلانے کی تصدیق

Relatives of seven-month-old Ali Deif, the son of Hamas’s military commander Mohammed Deif, hold his body as they mourn during the funeral of both the child and his mother in Jabalia, in the northern Gaza Strip, on August 20, 2014. Several thousand mourners joined the funeral procession for the wife and baby son of Hamas’s military commander, angrily demanding revenge against Israel. AFP PHOTO/ ROBERTO SCHMIDT

غزہ: غزہ میں امدادی مراکز پر تعینات امریکی سیکیورٹی کنٹریکٹروں نے امداد کیلئے جمع بھوک سے نڈھال فلسطینیوں پر جان بوجھ کر براہ راست گولیاں چلانے کی تصدیق کردی۔امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہےکہ امریکی سیکیورٹی کنٹریکٹروں نے خوراک کے لیے جمع بھوک سے نڈھال فلسطینیوں پر فائرنگ کی اور اسٹن گرینیڈوں اور مرچ اسپرے کا بھی استعمال کیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات بغیر کسی واضح خطرے کے کیے گئے۔ اے پی نے دو امریکی کنٹریکٹروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ سیکیورٹی عملہ غیر تربیت یافتہ اور بھاری اسلحے سے لیس تھا۔ اُن کے بقول ایسا لگتا ہے جیسے ان کے پاس ہر قسم کی کارروائی کرنے کا کھلا لائسنس ہے۔ اور وہ ان واقعات پر پریشان ہوکر حقائق سامنے لارہے ہیں۔
کنٹریکٹروں نے مزید انکشاف کیا کہ امریکی اہلکار کھانے کی تلاش میں آنے والوں کی نگرانی کرتے ہیں ۔ امدادی مرکز میں چہرے کی شناخت کرنے والے کیمرے بھی نصب ہیں جن کی مدد سے مشتبہ افراد کی شناخت کی جاتی ہے اور معلومات اسرائیلی فوج کے ساتھ شیئر کی جاتی ہیں۔ کنٹریکٹرز کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کو مبینہ طور پر کسی بھی مشتبہ شخص کی تصویر لینے کی ہدایت دی گئی تھی جسے بعد میں ڈیٹا بیس میں شامل کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular