
لکھنؤ: بھارتی ریاست اترپردیش کی ہندوتوا انتہا پسند حکومت نے وقف بورڈ کی 78 فیصد اراضی کو سرکاری ملکیت قرار دے دیا۔ وقف ترمیمی ایکٹ پر مسلمانوں کی آراء اور تجاویز لینے کے لیے بنائی گئی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی جے پی سی کی میٹنگ میں صوبائی حکومت نے وقف املاک کی سروے رپورٹ پیش کردی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اترپردیش میں اوقاف کی چودہ ہزار ہیکٹر اراضی میں سے گیارہ ہزار سات سو ہیکٹر سرکاری زمین ہے۔ رپورٹ کے مطابق شیعہ اور سنی وقف کے تحت ایک لاکھ 14 ہزار 662 املاک خطرے کی زد میں آگئیں۔ جس میں لکھنؤ کا چھوٹا امام باڑہ، بڑا امام باڑہ اور بیگم حضرت محل پارک سمیت صوبے کی کئی مشہور عمارتیں شامل ہیں۔
وقف ترمیمی بل کے موجودہ شکل میں نافذ ہونے سے ان جائیدادوں کی وقف کی حیثیت ختم ہو جائے گی۔


































