
نئی دہلی : بھارتی وزارتِ خارجہ نےپاکستان کے حالیہ بیان کو سختی سے مسترد کر دیا اور کہا کہ اقلیتوں پر جبر کے طویل ریکارڈ کے بعد پاکستان کو کسی کو لیکچر دینے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کےترجمان رندھیرجیسوال نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کا بیان مسترد کیا جاتا ہے اور وہ اس قابل نہیں کہ کسی دوسرے ملک کو اخلاقیات پر درس دے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اقلیتوں سے امتیازی سلوک، جبر اور منظم بدسلوکی کا ریکارڈ سب کے سامنے ہے۔ اس لیے اس کی تنقید محض منافقانہ رویہ ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کو دوسروں پر تنقید کے بجائے اپنے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر توجہ دینی چاہئے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ نے حالیہ بیان میں بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کو بھارت میں اقلیتوں پر دباؤ کی علامت قرار دیا تھا۔ رندھیر جیسوال نے کہا کہ یہ پاکستان کا داخلی سیاسی بیانیہ ہے جس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اپنے داخلی معاملات پر بھارت کسی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔


































