
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ نے پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے دی۔ یو این ورکنگ گروپ آن آربٹریری ڈیٹینشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عمران خان کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قید میں رکھا گیا ہے۔ اس لئے انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے اور غیر قانونی قید میں رکھنے پر ہرجانہ ادا کیا جائے۔ یو این ورکنگ گروپ آن آربٹریری ڈیٹینشن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان پہلے توشہ خانہ کیس میں اور سائفر کیسز میں بظاہر قانونی بنیادوں کے بغیرحراست میں ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ کیس سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں تاکہ انہیں سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے سے روکا جاسکے۔ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے کہا کہ عمران خان کی قانونی پریشانیاں ان کے اور ان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف جبر کی کہیں زیادہ بڑی مہم کا حصہ تھیں۔ گروپ نے یہ الزام بھی لگایا کہ انتخابات کے دن وسیع پیمانے پر فراڈ ہوا اور درجنوں پارلیمانی نشستوں کو ہتھیا لیا گیا۔ انتخابات سے قبل عمران خان کی پارٹی کے ارکان کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے جلسے جلوسوں میں خلل ڈالا گیا۔


































