
دوحہ : حماس رہنما خلیل الحیہ نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی قبضہ ختم ہو جائے تو وہ غزہ میں اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ حماس کے چیف مذاکرات کار خلیل الحیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہتھیار صرف قبضے اور جارحیت کے وجود سے وابستہ ہیں۔ قبضہ ختم ہونے کی صورت میں تمام ہتھیار ریاستی اختیار کے تحت دے دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کی افواج کی تعیناتی قبول کرتے ہیں، جو ایک سرحدوں کی نگرانی کرے اور غزہ میں جنگ بندی کی پاسداری کو یقینی بنائے۔
خلیل الحیہ نے مزید کہا کہ ہم غزہ میں اس بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کو مسترد کرتے ہیں جس کا مقصد ہمیں غیر مسلح کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں کسی بھی مستقل حل کی بنیاد اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی جڑے گی۔


































