
لاہور : شہید عارف حسین الحسینی رح نے ملت کو سیاسی شعور بخشا، ملت میں بیداری پیدا کی اور انہیں سیاسی میدان میں اپنا کردار ادا کرنے کی جانب راغب کیا۔ ملت جعفریہ سیاسی اعتبار سے مضبوط ہو جائے تو کوئی اس کے حقوق نہیں چھین سکتا۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے شہدائے ملت، نقطہ وحدت و اشتراک ملت کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب میں کیا۔ جس کا اہتمام ادارہ فروغ آثار شہداء افکار اور خانوادہ شہید ذوالفقار حسین نقوی و شہید عمار حیدر نقوی کی جانب سے کیا گیا تھا۔ سیمینار سے شیعہ علماء کونسل کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری سید مصور حسین نقوی، اسلامک ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین سید منیر حسین گیلانی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد اقبال، مرکزی نائب صدر آئی ایس او پاکستان حسن عارف اور دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا ہماری ملت میں سیاسی شعور نہیں، جس کی وجہ سے ہماری ملت بہت پیچھے چلی گئی ہے، بانی پاکستان اور پاکستان بنانے والوں کی اکثریت بھی شیعہ تھی۔30 ہزار شہداء ملکی بقاء کیلئے دیئے، اس کے باوجود ہماری ملت میں سیاسی شعور نہیں آسکا۔ سب سے زیادہ ذمہ داری علماء کی ہے کہ وہ قوم کو سیاسی شعور دیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حقوق اسے ملے ہیں جس کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے، پاکستان میں سیاست یہ ہے کہ جو طاقت رکھتا ہے، اس کی بات بھی سنی جاتی ہے، یا ووٹ ہو یا ڈنڈا ہو، تو بات سنی جاتی ہے، تو اپنے حقوق کی بھیک مانگنے کی بجائے اپنے اندر سیاسی طاقت پیدا کریں، جس قوم کی سیاسی طاقت نہیں ہوتی، وہ قوم اپنے حقوق کی بھیک مانگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی دہشتگرد شیعہ نہیں ملے گا، کوئی خودکش بمبار شیعہ نہیں ملے گا۔ ہم نے ہمیشہ دفاعی پوزیشن اختیار کی ہے۔ ملت جعفریہ کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ عزاداری ہمارا حق ہے، اگر ہم کمزور ہوگئے تو ہمیں اپنے حق کی بھی بھیک مانگنا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ پاکستان میں تشیع مضبوط ہوئی ہے، تنظیموں کے درمیان بھی ہم آہنگی بڑھی ہے۔ مقررین نے کہا کہ ہم فرقہ واریت کو حرام سمجھتے ہیں۔ ہم فرقہ واریت کے حق میں ہیں، نہ اس کی اجازت دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایام فاطمیہ ہیں، اس میں ہم تاریخی واقعات بیان کرتے ہیں، لیکن ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دی جا رہی ہے۔ مختلف بہانوں سے مظاہرے ہو رہے ہیں، ملت جعفریہ سے گزارش ہے کہ بیدار ہوں اور اہلسنت برادران کیساتھ اچھے رابطے ہونے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کو موقع نہ دیں۔ عزاداری کے دفاع کیلئے ہمیں متحد ہونا ہوگا، اگر ہم متحد نہ ہوئے تو ہم اپنے حقوق سے بھی محروم کر دیئے جائیں گے۔


































