
پ
نیویارک: اسرائیل کے سابق انتہاپسند وزیر اعظم نفتالی بینیٹ
نے شرانگیزی پر مبنی بیان میں کہاہےکہ اگر وہ سیاست میں واپس آتے ہیں تو ان کی اگلی حکومت تمام عرب جماعتوں کو باہر کردے گی۔نیویارک میں کولمبیا یونیورسٹی سے خطاب میں نفتالی بینیٹ نے کہا کہ موجودہ دور میں اسرائیل کی قیادت صیہونی جماعتوں کو کرنی چاہیے۔انہوں نے اسرائیل کو دوبارہ صحیح راستے پر لانےکے لیے ایک سو بیس ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل ایک وسیع اتحاد بنانے کی تجویز پیش کی لیکن اس بات پر زور دیا کہ اتحاد میں صرف صیہونی جماعتیں ہی شامل ہوں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت بنی تو وہ اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کے حقوق اور بہبود کو یقینی بنانے کی ذمہ دار ہوگی۔ تاہم جاری جنگ اور عرب جماعتوں کی تشکیل کی وجہ سے ان کے لیے حکومت میں شامل ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ انہوں نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت پر قومی سلامتی پر سیاسی بقا کو ترجیح دینے کا الزام لگایا۔


































