
رام اللہ : فلسطینی صدر محمود عباس کے جانشین حسین شیخ بھی صیہونی حکومت کے زرخرید نکلے۔61 سالہ حسین شیخ گذشتہ ماہ پی ایل او کے نئے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے تھے۔ وہ محمود عباس کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے ممکنہ سربراہ ہوں گے۔ امریکی نیوز ایجنسی کے ساتھ تعارفی انٹرویو میں حسین شیخ صیہونی حکومت کے گن گاتے نظر آئے۔ انکے پاس اسرائیل کےساتھ تعاون کرنے کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں ہے تاکہ فلسطینیوں کی بنیادی ضروریات پوری ہوتی رہیں۔ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہم نے اسرائیل کے ساتھ کوآرڈینیشن اور تعاون کا وعدہ کر رکھا ہےتاکہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے سلسلے میں آگے بڑھ سکیں۔ حسین شیخ نے تسلیم کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کا صدر غیر منتخب نہیں ہوسکتا نہ ہی یہ طاقت کی بنیاد پر مسلط ہو سکتا ہے تاہم صدر انتخاب کے سوال پر نئی منطق پیش کردی کہ نئے صدر کا انتخاب ضرور انتخابی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے لیکن انتخابات کا انعقاد صرف اسی صورت ممکن ہوگا کہ اسرائیل پورے مشرقی یروشلم میں ووٹنگ کی اجازت دے۔ ہاد رہے کہ محمود عباس نے 2006 سے فلسطینی اتھارٹی کوچلانے کے لئے انتخابات نہیں کرائے اور ایک آمر کی طرح من مانے انداز میں ہی معاملات کو چلاتے رہے ہیں۔


































