Mon Oct 19, 2026

کینیڈا کے فوجی اڈے پر تباہ کن آتشزدگی، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق؛ تحقیقات جاری فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر پُرتشدد احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، سینکڑوں گرفتاریاں یمنی فوج نے سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا، 2 ارکان ہلاک فلسطینیوں کے قتل عام پر خاموش، مصری صدر یمن میں کارروائی کیلئے تیار خطے میں امن کے لیے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ امریکی بحریہ کا پاکستانی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی کا دعویٰ بے بنیاد ہے، وزارت اطلاعات پاکستان نے گبد ریمدان بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں ایران کا انصار اللہ اور سعودی عرب میں ثالثی کی پیشکش کا اعادہ بی بی زینبؑ کا کردار، صبر، بہادری اور ثابت قدمی خواتین کیلئے مشعلِ راہ ہے، ولی امر مسلمین اسرائیل مغربی کنارے میں صیہونی بستیوں کا جبری قیام روکے، چینی وزیرخارجہ امریکا کو ایران کے خلاف کیے گئے مظالم پر سزا ملنی چاہیے، قالیباف یمنی فوج نے سعودی عرب کا جاسوسی اور جنگی ڈرون مار گرایا احمد الشرع کو دھمکی دیکر شام میں دروز برادری کا قتل رکوایا، نیتن یاہو یمن سے مکہ یا مدینہ پر حملے کا دعویٰ جھوٹ ہے، انصار اللہ ایران کی سخت دھمکی، دشمن کے مفادات اور اثاثے بھی نشانے پر ہوں گے

روزانہ کی خبریں

فلسطینی صدر محمود عباس کے متوقع جانشین حسین شیخ بھی صیہونی حکومت کے زرخرید نکلے

رام اللہ : فلسطینی صدر محمود عباس کے جانشین حسین شیخ بھی صیہونی حکومت کے زرخرید نکلے۔61 سالہ حسین شیخ گذشتہ ماہ پی ایل او کے نئے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے تھے۔ وہ محمود عباس کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے ممکنہ سربراہ ہوں گے۔ امریکی نیوز ایجنسی کے ساتھ تعارفی انٹرویو میں حسین شیخ صیہونی حکومت کے گن گاتے نظر آئے۔ انکے پاس اسرائیل کےساتھ تعاون کرنے کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں ہے تاکہ فلسطینیوں کی بنیادی ضروریات پوری ہوتی رہیں۔ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہم نے اسرائیل کے ساتھ کوآرڈینیشن اور تعاون کا وعدہ کر رکھا ہےتاکہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے سلسلے میں آگے بڑھ سکیں۔ حسین شیخ نے تسلیم کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کا صدر غیر منتخب نہیں ہوسکتا نہ ہی یہ طاقت کی بنیاد پر مسلط ہو سکتا ہے تاہم صدر انتخاب کے سوال پر نئی منطق پیش کردی کہ نئے صدر کا انتخاب ضرور انتخابی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے لیکن انتخابات کا انعقاد صرف اسی صورت ممکن ہوگا کہ اسرائیل پورے مشرقی یروشلم میں ووٹنگ کی اجازت دے۔ ہاد رہے کہ محمود عباس نے 2006 سے فلسطینی اتھارٹی کوچلانے کے لئے انتخابات نہیں کرائے اور ایک آمر کی طرح من مانے انداز میں ہی معاملات کو چلاتے رہے ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular