
ماسکو: ایران اور روس نے جامع اسٹریٹیجک شراکت داری کا معاہدہ کرلیا۔ ماسکو میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن نے معاہدے پر دستخط کئے۔ بیس سالہ شراکت داری کا یہ سمجھوتا 47 شقوں پر مشتمل ہے۔ اس کا مقصد توانائی، نقل و حمل، دفاع، سیکورٹی اور معیشت جیسے اہم شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھانا ہے۔ دونوں ممالک کے صدور کا کہنا ہے کہ ان کے بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات دوسرے ممالک کے خلاف نہیں ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اسٹریٹجک شراکت داری معاہدہ روس کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز ہوگا ایران روس تعاون امریکی اور مغربی انتہا پسندی اور پابندیوں کو ناکام بنا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوہری توانائی کا منصوبہ معاہدے کا حصہ ہے اور اس پر عمدہ پیش رفت ہو رہی ہے۔ پزشکیان نے کہا کہ رہبر معظم انقلاب ایران اور روس کے تعلقات پر خصوصی نظر رکھتے ہیں۔ جو کچھ میں نے بیان کیا، وہ ان کی ہدایات کا حصہ ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ یقیناً خطے کے ممالک کے درمیان باہمی تعلقات اور تعاون بڑھنے سے دشمنوں کے منصوبے ناکام ہوں گے۔


































