
ڈھاکا : بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد اور سابق وزیر داخلہ اسد الزماں کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنا دی گئی۔ بنگلادیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے قرار دیا کہ بطور وزیراعظم حسینہ واجد نے مظاہرہ کرنیوالے طلبا کے قتل کے احکامات جاری کئے۔ مظاہرین پر بے دریغ طاقت اور مہلک ہتھیاروں کا استعمال کروایا۔ حسینہ واجد نے طلبا کے مطالبات سننے کے بجائے فسادات کو ہوادی۔
تین ججز پر مشتمل ٹریبونل نے شیخ حسینہ واجد کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنایا۔ وہ ان دنوں انڈیا میں روپوش ہیں۔ سابق آئی جی پولیس چوہدری عبداللہ المامون کو پانچ سال قید کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔ کیس کے دلائل 23 اکتوبر کو مکمل ہوئے تھے۔ شیخ حسینہ واجد پر گزشتہ سال جولائی طلبا تحریک کیخلاف طاقت کے استعمال کا الزام ہے جس میں چودہ سو افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
عدالتی فیصلے کے پیش نظر ملک بھر میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ نے فیصلے کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔


































