
حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ صالح العاروری کا قتل لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور کھلم کھلا دہشت گردی کی کارروائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے مزاحمت کو بڑھنے سے روکنے کے لیے مرکوز فوجی کارروائیوں کے لیے تیسرے مرحلے میں منتقلی کو فروغ دینا شروع کردیا ہے، لیکن اسے مزاحمت کے ہاتھوں شکست ہوگی۔ اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ ان کی جماعت مزاحمتی تنظٰموں کی پیش کردہ شرائط کے علاوہ غزہ کی پٹی میں کسی بھی قیدی کو رہا نہیں کرے گی۔ مزاحمت اب بھی ٹھیک اور عروج پر ہے اور مزاحمت کار اور ان کی قیادت سب محفوظ ہیں۔
حماس کے سیاسی شعبہ کے سینئر رہنما عزت الرشق نے کہا ہے کہ اسرائیل کے اندرون ملک اور دنیا بھر میں فلسطینی قیادت کے خلاف حملوں سے بہادر مزاحمت کا جذبہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ گھٹیا دشمن کے ہاتھوں حماس کے سینئر رہنما کی شہادت سے ایک مرتبہ پھر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ دشمن غزہ پر اپنی تین ماہ سے جاری جنگ میں کوئی بھی اعلانیہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔


































