
فلسطین کی اسلامی تحریک حماس نے عرب سربراہی اجلاس کا خیر مقدم کرتے ہوئے غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عرب سربراہی اجلاس کے انعقاد کو فلسطینی کاز کے ساتھ عرب اور اسلامی صف بندی کے ایک اعلیٰ مرحلے کا آغاز سمجھتی ہے۔
حماس نے قاہرہ میں غیر معمولی عرب سربراہی اجلاس میں قائدین کے بیانات کو سراہا، جس میں سبھی نے فلسطینی عوام کو بے گھر کرنے کے قابض اسرائیل کے منصوبوں کو مسترد کرنے، الحاق اور آبادکاری کے منصوبوں کو مسترد کرنے اور فلسطینی عوام کی آزادی اور خود ارادیت کے جائز حقوق کی حمایت پر زور دیا گیا ہے۔ حماس نے کسی بھی بہانے یا آڑ میں فلسطینی عوام کو بے گھر کرنے یا ان کے قومی نصب العین کو ختم کرنے کی کوششوں کو مسترد کرنے کے حوالے سے عرب ممالک کے موقف کو بھی سراہا۔
حماس نے غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کا خیرمقدم کیا، جسے عرب سربراہی اجلاس نے اپنے حتمی بیان میں منظور کیا ہے۔ حماس نے اس منصوبے کی کامیابی کے لیے تمام وسائل فراہم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کی تیاری میں مصر کی کوششوں کو بھی سراہا۔
غزہ کی تعمیر نو کا مصری منصوبہ کیا ہے؟
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے خلاف غزہ کی تعمیر نو کے ایک متبادل منصوبے کی منظوری دی گئی ہے۔ خیال رہے کہ ٹرمپ نے غزہ سے 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کی عرب ممالک میں منتقلی کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ٹرمپ کے منصوبے کا متبادل مصر کی طرف سے پیش کیا گیا ہے جو 91 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں دلکش اماراتی ڈیزائنز ہیں۔ خیال رہے کہ عرب ممالک نے امریکی منصوبے کی مذمت کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق قاہرہ کا منصوبہ اس لیے مختلف ہے کیونکہ اس میں محض پراپرٹی کی تعمیر کی بات نہیں کی گئی۔ اس کے بینرز سیاسی نوعیت کے ہیں اور اس میں فلسطینیوں کے حقوق کی بات بھی کی گئی ہے۔ مصر کے منصوبے میں درج ہے کہ غزہ عرب ریاستوں اور فلسطینیوں کی ملکیت ہے۔ اس میں درج ہے کہ یہ منصوبہ مصر نے فلسطین اور عرب ممالک کے تعاون سے پیش کیا ہے اور اس کی بنیاد جامع عرب پلان کے طور پر غزہ کی جلد بحالی اور تعمیر نو کے حوالے سے ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے ڈیویلپمنٹ پروگرام پر ہونے والی تحقیقات پر رکھی گئی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اس منصوبے کے تحت غزہ کے 20 لاکھ سے زیادہ رہائشیوں کو اپنی اس زمین پر رہنے کا حق دیا گیا ہے۔


































