
Nickolay Mladenov, Bulgarian High Representative for Gaza speaks at the "Board of Peace” meeting during the World Economic Forum (WEF) annual meeting in Davos on January 22, 2026. US President Donald Trump will show off his new "Board of Peace” at Davos on January 22, 2026 burnishing his claim to be a peacemaker a day after backing off his own threats against Greenland. Originally meant to oversee the rebuilding of Gaza after the war between Hamas and Israel, the board’s charter does not limit its role to the Strip, and has sparked concerns that Trump wants it to rival the United Nations. (Photo by Mandel NGAN / AFP via Getty Images)
یروشلم : غزہ بورڈ آف پیس کے اعلیٰ نمائندے نکولائی ملادینوف نے کہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح ہونا ہوگا۔ اس سے سیاسی کردار ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا ہے۔ نکولائی ملادینوف نے یروشلم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے مستقبل سے متعلق سیاسی راستہ اب بھی مکمل طور پر بند ہے۔ یہ صورتحال نہ فلسطینیوں سے کیے گئے وعدوں کے مطابق ہے اور نہ ہی ان کی توقعات کے مطابق ہے۔ ملادینوف نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی اگرچہ برقرار ہے لیکن یہ نہ تو مکمل ہے اور نہ ہی مستحکم۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریقین کو غیر مسلح ہونا ہوگا اور یہ شرط کسی بھی صورت میں مذاکرات کے قابل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال اسرائیلی عوام کی سیکیورٹی کی توقعات کو بھی پورا نہیں کرتی۔ ملادینوف نے کہا کہ غزہ کا سیاسی اور انسانی مستقبل غیر یقینی ہے اور موجودہ فریم ورک اس بحران کا مکمل حل فراہم نہیں کر رہا۔


































