
غزہ : حماس نے بین الاقوامی عدالتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نام نہاد غزہ ہومینٹیئرین فاؤنڈیشن جی ایف سی کے خلاف کارروائی کریں اور فلسطینی عوام کے خلاف کیے گئے جرائم کا حساب لیں۔
حماس نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی اور اسرائیلی حمایت یافتہ جی ایچ ایف کی غزہ سے روانگی محض خدمات کی بندش نہیں۔ بلکہ ایک غیر انسانی گروہ کے لیے سزا ہے جو نسل کشی اور قحط کی منصوبہ بندی میں قابض ریاست کے ساتھ شریک تھا۔ حماس نے جی ایچ ایف کے غزہ میں کام کرنے کے طریقوں کی سخت مذمت کی اور کہا کہ یہ مکمل طور پر قابض ریاست کے سلامتی نظام میں ضم تھی۔ فاؤنڈیشن نے امدادی تقسیم ایسے طریقوں سے کی جو انسانی اصولوں سے قطعاً الگ تھے، جس سے فلسطینی عوام کی بنیادی ضروریات تک رسائی خطرناک اور ذلت آمیز حالات میں ہوئی۔ حماس نے بتایا کہ جی ایچ ایف کے نظام کی وجہ سے ہزاروں افراد شہید یا زخمی ہوئے۔
واضح رہے کہ سینکڑوں فلسطینیوں کے قتل میں ملوث متنازع غزہ ہیومینٹرین فاؤنڈیشن جی ایچ ایف نے غزہ میں اپنے نام نہاد مشن کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جون اَکری نے کہا کہ تنظیم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے اس نے غزہ کے شہریوں تک اٹھارہ کروڑ 70 لاکھ سے زائد مفت کھانے پہنچائے۔


































