
دوحہ: حماس نے ایک بیان میں کہاہےکہ اسرائیل کی فاقہ کشی کی پالیسی کو بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی کے طور پر تسلیم کرنا عالمی احتساب کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ حماس نے امریکی- اسرائیلی امداد کی تقسیم کے مقامات پر 800 سے زائد شہریوں کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام چلانے والوں کو جوابدہ ٹھہرانے کی فوری ضرورت ہے۔
حماس نے 28 ممالک کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبے کا خیرمقدم کیا ہے. حماس نے دستخط کنندگان سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں انسانی تباہی کے خاتمے، نسل کشی روکنے اور امداد کی فوری اور مستقل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے الفاظ کو ٹھوس اقدامات میں بدل دیں۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہاہےکہ یہ بیان حقیقت سے دور ہے اور حماس کو غلط پیغام دیتا ہے۔ وزارت نے حماس پر جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے نئے معاہدے پر اتفاق کرنے کے بجائے جھوٹ پھیلانے اور امداد کی تقسیم کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔


































