
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
دنیا کے مختلف انقلابوں اور مختلف حکومتی نظاموں میں جب کسی شخصیت کے پاس بہت زیادہ اختیارات آجاتے ہیں یا وہ اس نظام یا کسی قوم و ملت کے لیے ہر دلعزیز شخصیت ہو جاتی ہے تو بدقسمتی سے ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں کہ وہ فرد اپنے منصب اور حیثیت سے فائدہ اٹھا کر رائج نظام میں من مانیاں کرتا ہے اور اپنے اختیارات سے بلاجواز استفادہ کرکے اپنے یا اپنے عزیز و اقارب یا جماعتی مفادات حاصل کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ اس طرح کے متعدد واقعات ملتے ہیں کہ بڑے منصب پر فائز بڑی شخصیات بعض اوقات پورے انقلاب یا پورے ملک کو اپنے ذاتی اہداف و مقاصد یا مادی فکر و سوچ کی روشنی میں اپنی مرضی کا نظام بنانے میں کوشاں ہو جاتی ہیں۔ امام خمینی کی شخصیت آپ کی عظیم قیادت اور آپ کی ہر دلعزیزی سے کون آشنا نہیں، لیکن ہم اگر ان کی زندگی کا سرسری جائزہ بھی لیں تو واضح ہوتا ہے کہ آپ نے ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی اور نئی حکومت تشکیل پانے کے بعد نہ کبھی قانون کی خلاف ورزی کی اور نہ ہی اداروں میں بے جا مداخلت کی اور نہ ہی ذاتی مفادات کے لیے اپنے منصب ولایت فقیہ سے استفادہ کیا۔ آپ نہ تو اپنے اردگرد کے افراد کی بات کو آخری حجت سمجھتے تھے او ر نہ ہی اپنے خاندان کے کسی فرد کی خبر یا رپورٹ کو اپنے لیے آخری اور مستند خبر قرار دیتے تھے۔
آپ کئی ذرائع سے خبر اور واقعات کو حاصل کرتے اور پھر اس کی روشنی میں کوئی فیصلہ صادر فرماتے۔ آپ ملکی اور عالمی حالات سے آشنائی کے لیے براہ راست ذرائع ابلاغ سے معلومات حاصل کرتے بلکہ آپ دشمن کے ذرائع ابلاغ کو بھی توجہ سے سنتے اور ان کے تجزیوں کی روشنی میں حقائق کو تلاش کرتے۔ آپ بعض افراد کو سامراجی میڈیا سننے کا کہتے اور بعض کو منع فرماتے کہ بغیر معلومات اور حقائق کے عالمی سامراجی پرپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔ آپ اس بات کو پسند کرتے کہ لوگ براہ راست اور بغیر کسی چاپلوسی و تکلف کے آپ تک حقائق پہنچائیں۔ آپ ان افراد کو ناپسند فرماتے تھے، جو آپ کو خوش کرنے کے لئے صرف وہ خبریں اور واقعات بتاتے، جو بظاہر خوش کرنے والی اور اطمینان بخش ہوں، لیکن حقائق سے عاری ہوں۔ امام خمینی کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو یہ تھا کہ آپ نے اپنے افکار و نظریات اور احکامات کو بیان کرنے کے لیے کسی خاص فرد یا ادارے کو ترجمان نہیں بنایا تھا۔ بہت سے لوگوں کی خواہش تھی، جن میں آپ کے دفتر اور خاندان کے قریبی ترین افراد بھی شامل تھے کہ امام خمینی ان کو اپنا ترجمان بنا دیں، لیکن امام خمینی اس سلسلے میں بڑے محتاط تھے کہ کوئی ترجمان ہونے سے سوئے استفادہ نہ کر لے۔ آپ اس بات پر تاکید کرتے تھے اور اس کا اعلان بھی فرماتے تھے کہ ان کا کوئی ترجمان نہیں ہے۔ امام فرماتے تھے کہ "کوئی میرا نمائندہ نہیں ہے، نہ میرا ترجمان اور میں اس بات کا سرکاری اور غیر سرکاری طور پر اعلان کرتا ہوں۔”
امام خمینی کی رہائش گاہ پر مختلف زبانوں میں یہ جملہ لکھوا دیا گیا تھا کہ ان کا کوئی ترجمان نہیں اور جو بھی آپ سے ملنے کے لیے آتا، اس پر واضح ہو جاتا کہ امام کا کوئی ترجمان نہیں بلکہ امام جو خود کہیں گے یا خود لکھیں گے، وہی امام خمینی کا حکم ہوگا۔ امام خمینی کو اپنے فرزند سید احمد خمینی سے بہت محبت اور ان پر اعتماد تھا، لیکن آپ نے انہیں بھی اس بات کی اجازت نہیں دی تھی کہ وہ اپنے آپ کو امام خمینی کا ترجمان کہیں۔ حجت السلام نوری کہتے ہیں امام خمینی اپنے فرزند سید مصطفیٰ خمینی کو ایک صاحب علم، ایک فلسفی اور مجتہد کی سطح کا آگاہ فرد سمجھتے تھے، لیکن ان کو بھی اجازت نہیں دیتے تھے کہ آپ کی انقلابی تحریک کی ترجمانی کریں اور اس میں کسی قسم کی مداخلت کریں۔ دنیا کے مختلف انقلابوں، تحریکوں اور حکومتی نظاموں میں ایک رہبر لیڈر اپنے تحریری بیانات، پیغامات اور خطوط کی ذمہ داری اپنے اردگرد کے لوگوں کو دے دیتا ہے، تاکہ وہ اس کے پیغامات، خطوط اور بیانات تحریر کریں، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ امام خمینی نے اپنی زندگی میں بے انتہاء مصروفیت کے باوچود اپنے پیغامات ہمیشہ خود تحریر کیے۔ آپ کے تحریری بیانات آپ کی قلم سے لکھے جاتے اور آپ نے جو احکامات جاری کرنے ہوتے، وہ بھی اپنے قلم سے خود تحریر فرماتے، تاکہ کوئی دوسرا اس سے سوئے استفادہ نہ کرسکے۔
امام خمینی کسی اہم مسئلہ پر فیصلہ کرنے یا پیغام جاری کرنے سے پہلے اس مسئلے سے متعلق مختلف طرح کے افراد سے گفتگو کرتے، اس موضوع کے جتنے ممکنہ فریق ہوتے، ان سے صورت حال کا ادراک حاصل کرتے۔ آپ سب کی بات سنتے، سب پر توجہ اور پھر اس کے بعد کوئی فیصلہ صادر فرماتے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے کوئی متن یا ٹیکسٹ تیار کر دیا اور آپ نے اس کو بعد میں اپنے نام سے جاری کیا۔ آپ اپنے فیصلے، پیغامات، بیانات اور خطوط ہمیشہ خود تحریر فرماتے۔ آپ کے دفتر والے کہتے ہیں کہ جب مختلف طرح کے وفود آپ کی خدمت میں ملاقات کے لیے آتے تو آپ سب کی بات کو مکمل توجہ اور غور سے سنتے، لیکن فیصلہ کرتے وقت کسی کو مداخلت کی اجازت نہ دیتے تھے۔ امام خمینی کی زندگی میں ایسے متعدد واقعات ملتے ہیں کہ آپ کے قریبی افراد یا حکام مل کر ایسا فیصلہ کر لیتے، جو امام کو پسند نہ آتا۔ آپ ان کی بات مان لیتے اور ساتھ یہ کہہ بھی دیتے کہ تمہاری وجہ سے میں مان رہا ہوں، لیکن میں اس کو مصلحت نہیں جانتا۔ ایران کے مرحوم چیف جسٹس آیت اللہ موسوی اردبیلی ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک وزیر کی تقرری کے بارے میں ہم سب نے فیصلہ کیا اور میں نے اور آیت اللہ بہشتی نے امام کی خدمت میں اس وزیر کی تعریف کی۔ امام خمینی نے جواب میں فرمایا، میں آپ کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں، لیکن آپ لوگ اس فیصلے پر پچھتائیں گے۔ آیت اللہ موسوی اردبیلی کہتے ہیں ہم اپنی بات پر قائم رہے، لیکن کچھ عرصہ بعد پتہ چلا کہ اس وزیر کے بارے میں امام خمینی کی رائے درست تھی اور وہ اس وزارت کے قابل نہ تھے۔
امام خمینی کی زندگی کی ایک اور روش یہ تھی کہ آپ، جو افراد زیادہ اثر و رسوخ کے مالک تھے یا اثر و رسوخ پیدا کرنے کے خواہشمند ہوتے، انہیں اپنے دفتر میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ آپ اس بات پر سخت ناراض ہوتے، اگر کوئی آپ کے دفتر کا فرد ہونے کیوجہ سے اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کی کوشش کرتا یا اس حیثیت سے استفادہ کرنے کی کوشش کرتا۔ حجت السلام آشتیانی نے اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایران کے صدر، بنی صدر بعض اوقات امام خمینی کے افکار و نظریات کے برعکس اقدامات انجام دیتے، جس کی وجہ سے انقلابی افراد اور امام خمینی کے دفتر کا اسٹاف بنی صدر کو ناپسند کرتا تھا۔ ایک دفعہ بنی صدر امام خمینی سے ملاقات کے لیے آیا تو دفتر کے اسٹاف نے زیادہ گرمجوشی سے اس کا استقبال نہ کیا اور اسے نظر انداز کیا۔ بعد میں جب امام خمینی کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے دفتر کے اسٹاف کے نام تحریری حکم لکھا اور اس میں سب کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ سب کو مکمل غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے، آپ کو کسی کی توہین یا کسی کو نظر انداز کرنے کا حق نہیں۔ یہاں جو بھی آتا ہے، وہ مہمان ہے اور شریعت نے مہمان کی قدر کرنے اور اس سے اچھا سلوک کا حکم دیا۔
آپ نے آفس کے محافظین کو خصوصی طور پر تاکید کی کہ میرے مخالف کے ساتھ بھی آپ کا رویہ جانبدارانہ نہیں ہونا چاہیئے۔ آپ اپنے دفتر کے اسٹاف کو سختی سے منع کرتے تھے کہ دفتر کے کسی فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ کسی حکومتی فرد، وزیر یا افسر کو نصیحت کریں اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں اور امام خمینی کے قریبی ہونے سے فائدہ اٹھائیں۔ امام خمینی کی دختر محترمہ اس حوالے سے نقل کرتی ہیں کہ امام کا اپنے اسٹاف اور اہل خانہ کے لیے حکم تھا کہ میرے قریبی کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کو نصیحت کریں۔ قارئین آخر میں اس بات پر مضمون ختم کرتے ہیں کہ دنیا کے مختلف ممالک میں قائدین اور لیڈروں کے قریبی افراد اپنی حیثیت سے فائدہ اٹھا کر من مانیاں کرتے ہیں اور اپنے لیڈر کو بتائے بغیر یا ان کی رضامندی سے اپنے اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں یا ایسے لیڈر کے اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں یا اپنے ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیں۔ امام خمینی کی زندگی کا یہ بنیادی اصول تھا کہ اپنے گھر والوں اور اسٹاف کو اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔


































