
Palestinians evacuate the area following an Israeli airstrike on the Sousi mosque in Gaza City on October 9, 2023. Israel continued to battle Hamas fighters on October 9 and massed tens of thousands of troops and heavy armour around the Gaza Strip after vowing a massive blow over the Palestinian militants’ surprise attack. (Photo by Mahmud HAMS / AFP)
غزہ: غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں شدت آگئی۔ جبکہ اسرائیلی بربریت پر عالمی دنیا بالخصوص عرب ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ دو پناہ گزین اسکولوں پر حملے میں پچاس سے زیادہ فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ جنگی طیاروں نے شمالی غزہ کے علاقے الدرج میں دو پناہ گزین اسکولوں پر بم برسادئے۔ اسکولوں میں سینکڑوں پناہ گزین مقیم ہیں۔ صیہونی فوج نے بیت لاحیہ، خان یونس، شجاعیہ اور رفح میں بھی وحشیانہ حملے کئے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ سپریم کورٹ کی عمارت بھی تباہ کر دی جبکہ اسپتال اور ایمبولینس کو بھی نشانہ بنایا۔ اسپتالوں میں لاشوں کے ڈھیر لگے ہیں جبکہ زخمیوں کی بھرمار ہے ادھر اسرائیل نے زمینی حملوں کا دائرہ جنوبی غزہ تک بڑھا دیا۔ جہاں خان یونس اور اطراف میں شدید لڑائی ہورہی ہے۔
اسرائیلی فورسز نے غزہ کی فائبر روٹس کاٹ دیں جس کے باعث غزہ میں موبائل اور انٹرنیٹ اور لینڈ لائن سروس معطل ہوگئی۔ اسرائیل نے عالمی ادارہ صحت کو بھی 24 گھنٹوں میں جنوبی غزہ میں گودام چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔


































