
عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کی احتجاجی تحریک شدت اختیار کر گئی۔ اے اے سی کی جانب سے گندم کی قیمتوں میں اضافے، فنانس ایکٹ اور ریونیو ایکٹ، لوڈشیڈنگ سمیت دیگر مطالبات کے حق میں جاری احتجاجی تحریک پورے گلگت بلتستان میں تیزی سے پھیل رہی ہے. اسکردو یادگار شہداء، گلگت گھڑی باغ، دیامر داریل، ہنزہ، غذر سمیت دیگر علاقوں میں احتجاجی دھرنے منعقد کئے گئے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی دھرنوں کے شرکاء نے حکومت کو واضح پیغام دیا ہے کہ جب تک عوامی مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے احتجاجی تحریک آئے روز مزید شدت اختیار کرتی جائیگی۔
گلگت گھڑی باغ میں احتجاجی دھرنے میں مختلف سیاسی سماجی شخصیات اور مختلف اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ چیف کوآرڈینیٹر کامریڈ احسان ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی یہ تحریک جی بی کے غریب عوام اور ہماری آنے والی نسلوں کیلئے ہے، اس لئے عوام اور بالخصوص نوجوان اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے مستقبل کی جدوجہد کو کامیاب بنائیں۔ حکمرانوں کی ترجیحات عوام کے بنیادی مسائل روٹی، تعلیم، بجلی، صحت اور روزگار نہیں ہے، ان کی ترجیحات ذاتی مفادات اور کرپشن ہے، اگر حکمرانوں کو عوام کی فکر ہوتی تو اربوں کی کرپشن اور اربوں کے مراعات کو ختم کرکے عوام کو صحت، تعلیم، روزگار مہیا کرتے۔


































