
نیویارک : اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹام فلیچر نےکہا ہے کہ غزہ جنگ نے بچوں کے اوپر تباہ کن اثرات مرتب کئے ہیں۔ ٹام فلیچر نے سلامتی کونسل کو غزہ میں بچوں کی سنگین حالت زار اور مقبوضہ مغربی کنارے کے حالات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ غزہ کے بچے بھی سلامتی، تعلیم اور امید کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ نے بچوں کو دھماکوں اور بھوک سے مرتے، منجمد ہوتے یتیم اور اپنے خاندانوں سے الگ ہونے کو دیکھا ہے۔ پوری ایک نسل صدمے سے دوچار ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یونیسیف کے مطابق دس لاکھ بچوں کو ذہنی دباؤ، پریشانی اور خودکشی کے خیالات کے لیے ذہنی صحت اور نفسیاتی سماجی مدد کی ضرورت ہے۔
ادھر غزہ کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ جنگ میں اڑتیس ہزار بچے یتیم اور چودہ ہزار خواتین بیوہ ہوئیں۔ 32,151 بچے اپنے باپ سے محروم ہو گئے، 4,417 نے اپنی ماؤں کو کھو دیا جبکہ 1,918 نے والدین دونوں کھوئے۔


































