
Francesca Albanese, Special Rapporteur on the situation of human rights in the Palestinian Territory occupied since 1967, briefs reporters at UN Headquarters.
غزہ : انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی اقدام کو جنگی جرم اور اجتماعی سزا قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے مقبوضہ فلسطینی علاقوں فرانسیسکا البانیزے نے اسرائیلی فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ‘Genocide Alert’ (نسل کشی کا انتباہ) لکھتے ہوئے کہا کہ بجلی کی بندش کے نتیجے میں صاف پانی کی دستیابی بھی ممکن نہیں رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "وہ ممالک جو اسرائیل پر پابندیاں یا اسلحے کی ترسیل پر پابندی عائد نہیں کر رہے، وہ اس تاریخی اور قابلِ روک تھام نسل کشی میں اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں۔”
بجلی کی بندش کے بعد غزہ میں پانی صاف کرنے والے پلانٹس بھی کام نہیں کر سکیں گے، جس سے لاکھوں فلسطینیوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو "جنگی جرم” اور "اجتماعی سزا” قرار دیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اسرائیل نے پہلے ہی جان بوجھ کر غزہ میں فلسطینیوں کے پانی تک رسائی کے زیادہ تر راستے کاٹ دیے ہیں۔ پانی کے پمپس۔ ڈی سیلینیشن اور ویسٹ مینجمنٹ پلانٹس کو چلانے کے لیے استعمال ہونے والے سولر پینلز کو تباہ کردیا ہے۔
اسرائلی تنظیم گیشا نے بھی اسرائیلی اقدام کو جنگی جرم کے مترادف قرار دیا ہے۔
حماس نے اسرائیل کے غزہ کی بجلی بند کرنے کے فیصلے کو ‘ناقابل قبول دباؤ’ قرار دیا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے یہ اقدام فلسطینی مزاحمت کاروں پر دباؤ ڈالنے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کیا ہے۔ حماس کے سیاسی دفتر کے رکن عزت الرشق نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اسرائیل کے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت غزہ کو پہلے ہی خوراک، ادویات اور پانی سے محروم کر دیا گیا ہے۔


































