
جنیوا : اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے کہا ہے کہ غزہ میں نوے فیصد بچوں کو ایک یا دو وقت غذا نصیب ہے۔ یونیسف کے مطابق غزہ میں دو سال کی عمر کے نوے فیصد بچے یا تو دودھ پیتے ہیں یا پھر روٹی کھاتے ہیں۔ دیگر غذاؤں تک ان کی رسائی نہیں ہے۔ جس سے غذائیت کی کمی کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پچیس فیصد حاملہ خواتین شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ چالیس فیصد دودھ پلانے والی مائیں غذائی کمی کی وجہ سے موت کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ دو لاکھ سے زائد خواتین اور بچے تشویشناک غذائی کمی کا شکار ہیں۔ اگر غذائی امداد فراہم نہ کی گئی تو غزہ میں لاکھوں اموات بیماریوں اور بھوک سے ہوجائیں گی۔


































