
لاہور: مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عمران خان اپنے افکار اپنے نظریات میں پہلے سے اٹل، پر امید اور اعصابی لحاظ سے مزید مضبوط نظر آئے۔ خدا پر ایمان اور توکل پر ان کے اندر غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان کی شجاعت ،بہادری اور امید ایسے شخص کی طرح ہے جس کے دل میں سوائے خدا بزرگ وبرتر کے کسی کا ڈر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنی استقامت کو آزادی کی جدوجہد کا نام دیتے ہیں، ان کی خواہش ہے کہ پارلیمان ،عدلیہ اور تمام دیگر ادارے اپنی آئینی حیثیت اور باوقار مقام رکھتے ہوں۔ پارلیمنٹ کے نمائندے عوام کے حقیقی نمائندے ہوں۔ کرپشن، دھونس دھاندلی اور جبر و ظلم کی بنیاد پر وہ اسمبلیوں تک نہ پہنچے ہوں۔ یہ اداروں کی آزادی کی جنگ اقوام عالم میں مادر وطن پاکستان کے باوقار اور خودمختار مقام کے لیے ہے۔ عمران خان اس قدر مطمئن ہیں کہ انہیں ڈرانے والے آج خود پریشان ہیں۔ عمران خان نے عوام کے لیے پیغام دیا ہے کہ یہ آزادی کی جنگ ہے جس کے لیے سب کو گھروں سے نکلنا ہو گا اور اسے 8 فروری کو ووٹ کی طاقت سے جیتنا ہو گا۔ علامہ راجہ ناصر نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہم جس شخص کے ساتھ کھڑے ہیں وہ دلیر اور وطن عزیز کے ساتھ باوفا ہے۔ یہ شخص ہمیں ایک مضبوط اور غیرت مند قوم بنانے کے لیے ڈٹا ہوا ہے۔ اس سے پہلے ہمیں قومی، لسانی، صوبائی، مسلکی اور مختلف عصبیتوں کا شکار کر کے ٹکروں میں تقسیم کیا گیا تاکہ ہم قوم نہ بن سکیں ۔ عمران خان کی دیانت داری اور دلیری کے باعث لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت دوڑ رہی ہے۔ ساری قوم آزادی و حریت کی جنگ لڑنے والے اس عظیم رہنما کے پیچھے کھڑی ہے۔ ملک کو لاقاںونیت، غیر آئینی اقدامات اور اختیارات کے ناجائز استعمال نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ ہم قانون اور آئین کی بالادستی دیکھنا چاہتے ہیں۔


































