
دوحہ : حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہاہے کہ فلسطینیوں نے اسرائیل کو جنگ بندی معاہدہ میں اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔ قیدیوں کے تبادلے کے بعد ایک بیان میں اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ تحریک مزاحمت نے قابضین کا مقابلہ کرکے اس کے عزم کو توڑنے اور نسل کشی کے ذریعے اسیروں کی رہائی کے منصوبے کو ناکام بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ دشمن نے اسلحہ۔ قتل و غارت اور نسل کشی کے ذریعے قیدی آزاد کرانے کی شرط لگا رکھی تھی لیکن 50 دن بعد دشمن مزاحمت اور بہادر عوام کی قوت ارادی کے سامنے جھک گیا ہے۔ فلسطینی رہنما نے کہا کہ گروپ جنگ بندی کے بعد غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ مزاحمت کار اپنی سرزمین کو آزاد کرانے کے لیے لڑتے رہیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حماس غزہ میں اپنی پوزیشنیں خالی نہیں کرے گی اور مستقبل میں علاقے کو چلانے کے نظام میں کسی بیرونی مداخلت کو تسلیم نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عظیم فلسطینی عوام نے استقامت کا ایک افسانہ لکھا اور ان کے جنگجوؤں نے دشمن کے زخموں کو مزید گہرا کیا۔


































